اس وقت ان تمام ہندوؤں کو یہ ماننا پڑا کہ یہ الہام واقعی سچا ہے۔ اور وہ ہندو جو ڈاکخانہ میں گیا تھا نہایت تعجب اورحیرت میں پڑا کہ یہ غیب کی بات کیونکر معلوم کی گئی۔ تب میں نے اُس کو کہا۔ کہ ایک خداہے قادر توانا جو غیب کا جاننے والا ہے جس سے ہندو بے خبر ہیں یہ اُس نے مجھے بتلایا۔ اور یہ الہام آج سے بیس برس پہلے کتاب براہین احمدیہ میں درج ہوچکا اور لاکھوں انسان اِس سے اِطلاع پاچکے ہیں۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۲۶ و ۲۲۷۔ ۳۰ مجھے ایک دفعہ یہ الہام ہوا کہ الرَّحمٰن علّم القراٰن۔ یا احمد فاضت الرحمۃ علٰی شفتیک۔ یعنی خدا نے تجھے اے احمد قرآن سکھلایا اور تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔ اور اس الہام کی تفہیم مجھے اِس طرح پر ہوئی کہ کرامت اور نشان کے طور پر قرآن اور زبان قرآن کی نسبت دو ؔ طرح کی نعمتیں مجھ کو عطا کی گئی ہیں۔ (۱) ایک یہ کہ معارف عالیہ فرقان حمید بطور خارق عادت مجھ کو سکھلائے گئے جن میں دُوسرا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ (۲) دوسرے یہ کہ زبانِ قرآن یعنی عربی میں وہ بلاغت اور فصاحت مجھے دی گئی کہ اگر تمام علماء مخالفین باہم اتفاق کرکے بھی اِس میں میرا مقابلہ کرنا چاہیں تو ناکام اور نامراد رہیں گے اور وہ دیکھ لیں گے کہ جو حلاوت اور بلاغت اور فصاحت لسان عربی مع التزام حقائق و معارف و نکات میری کلام میں ہے وہ ان کو اور ان کے دوستوں اور ان کے استادوں اور ان کے بزرگوں کو ہرگز حاصل نہیں۔ اس الہام کے بعد میں نے قرآن شریف کے بعض مقامات اور بعض سورتوں کی تفسیریں لکھیں اور نیز عربی زبان میں کئی کتابیں نہایت بلیغ و فصیح تالیف کیں اور مخالفوں کو ان کے مقابلہ کے لئے بلایا بلکہ بڑے بڑے انعام ان کے لئے مقرر کئے اگروہ مقابلہ کرسکیں اور ان میں سے