تھا کہ تمام مضامین میں سے میرا ہی مضمون فائق رہے گا۔ سومیں نے اِس خیال سے کہ ایسے مذہبی جلسہ کے موقعہ پر میرے الہامات کی سچائی لوگوں پر کھل جائے قبل اس کے کہ لوگ اپنے اپنے مضامین سناویں اپنے اس الہام کو بذریعہ ایک اشتہار کے شائع کردیا اور پھر بعد میں میرے الہام کے مطابق عام رائے یہی ہوئی کہ میرا مضمون تمام مضمونوں پر غالب ہے۔چنانچہ انہی ایّام میں سول ملٹری گزٹ لاہور اور آبزرور نے بھی میرے اس بیان کی زور کے ساتھ تصدیق کی اور جیسا کہ میں نے خدا تعالیٰ کے الہام کے ذریعہ سے قبل از وقت تمام لوگوں میں شائع کردیا تھا کہ میرا ہی مضمون غالب رہے گا حقیقت میں ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اور میرا مضمون اس جلسہ میں نہایت درجہ کی عظمت کی نگہ سے سنا گیا اور اس کی تعریف میں شہر لاہور میں دھوم مچ گئی۔
یہ اشتہار جس کا میں نے ذِکر کیا ہے لاہور کے جلسہ مذاہب سے پہلے نہ صرف لاہور میں ہی مشتہر کیا گیا تھا بلکہ جلسہ مذکورہ کی تاریخوں سے کئی دن پیشتر پنجاب کے اکثر شہروں میں اور ہزارہا لوگوں میں بکثرت شائع ہوچکا تھا۔ اور شیخ محمد حسین بٹالوی اور مولوی احمداللہ اور ثناء اللہ امرتسری اور مولوی عبد الجبار غزنوی ثم امرتسری اور دوسرے کئی مولویوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں کے پاس پہنچ چکا تھااور عام مسلمانوں میں بکثرت شائع کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جلسہ مذاہب کے بعد حق کے طالبوں کے دِلوں پر اس پیشگوئی کا بہت ہی اثر ہوا کیونکہ جب انہوں نے دیکھا کہ درحقیقت یہی مضمون دُوسرے مضمونوں پر غالب رہا اور تمام فرقوں کی عام توجہ اور رغبت اِسی مضمون کی طرف ہوگئی۔ تب انصاف پسند لوگوں کے دِلوں پر الہامی پیشگوئی کی سچائی نے عجیب اثر کیا یہاں تک کہ ایک صاحب نے سیالکوٹ سے مبلغ 3سوروپیہ اپنے جوش خوشی سے