بھیجا کہ خدا تعالیٰ نے اس مضمون کو ایک نشان کے رنگ میں ظاہر فرمایا یعنی اس نے ایک تو ذاتی خاصیت اس مضمون میں ایسی رکھی کہ ہر ایک فرقہ کا انسان باوجود مذہبی روکوں کے بے اختیار اس مضمون کی تعریف کرنے لگا اور قریباً پنجاب کی تمام اخباریں ایک زبان سے بول اُٹھیں کہ جلسہ مذاہب کے تمام مضامین کی جان یہی مضمون ہے اور سول ملٹری جو ایک نیم سرکاری اخبار سمجھی جاتی ہے اس نے بھی یہی گواہی دی کہ اسی مضمون کی قبولیت ظاہر ہوئی۔ اور آبزرورنے لکھا کہ یہ مضمون اس لائق ہے کہ انگریزی میں ترجمہ ہو کر یورپ میں شائع کیا جائے۔ اس سے ظاہر ہے کہ کس شوکت اور شان سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی جس کی نسبت عیسائیوں اور ہندوؤں اور مسلمانوں اور خود ممبران جلسہ نے اِس قدر عظمت اور بے نظیری کا اقرار کیا کہ جس سے بڑھ کر ممکن نہیں او رعجیب تر یہ کہ یہ لوگ جانتے تھے کہ ہمارے اِس اقرار سے پیشگوئی پوری ہو جائے گی۔ مگر پھر بھی کچھ ایسی وجد کی حالت اُن پر طاری ہوئی کہ بے اختیار ان کے مُنہ سے یہ کلمات نکل گئے کہ یہی مضمون بالا رہا۔ اور نہایت تعجب میں ڈالنے والی یہ بات ہے کہ جو آریوں میں سے اِس جلسہ کے معزز مدارالمہام قرار پائے تھے سب سے اوّل اُنہوں نے ہی یہ کہا کہ یہی مضمون ہے جو دُوسرے مضمونوں پر غالب رہا۔
اب میں مناسب دیکھتا ہوں کہ ذیل میں اُس اشتہار کی نقل بھی لکھدوں کہ جو اس جلسہ مذاہب سے پہلے ہزاروں انسانوں میں شائع کیا گیا اور جس میں بآواز دُہل بتلایا گیا تھا کہ یہی مضمون تمام دوسرے مضمونوں پر غالب رہے گا۔ اوروہ یہ ہے:۔