اپنے تئیں خدا تعالیٰ کا مامور قرار دیتا ہے ۔ کیا ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ مفتری کی ایسی مسلسل طور پر مدد کرتا جائے کہ ۱۸۸۶ ء سے لغایت سن ۱۸۹۹ ء چودہ۱۴ سال تک برابر وہ مدد جاری رہے۔ کیا کبھی مفتری کی تائید خدا نے ایسی کی یا صفحہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر بھی ہے ؟ دیکھو ایک وہ زمانہ تھا کہ ان چار لڑکوں میں سے کوئی بھی نہ تھا اور اِس وقت ایک بڈھا کمزور دائم المرض آدمی جس کا ہر ایک دم موت کی خطرناک حالت میں ہے پیشگوئی کرتاہے کہ ضرور ہے کہ چار لڑکے میرے گھر میں پیدا ہوں اور پھر جب ایک لڑکے کے پیدا ہونے کا زمانہ کسی قدر قریب آتاہے تو الہام کے ذریعہ سے اس کے پیدا ہونے کی بشارت دیتا ہے ۔ اور ایسا ہی پھر الہام کے ذریعہ سے دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کی خبردیتا ہے۔ پھر ایسا ہی تیسرے لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے پیداہونے کی پیشگوئی شائع کرتا ہے۔ پھر قبل اس کے کہ جو چوتھا لڑکا پیدا ہو بڑے دعوے اور زور شور سے اِس کے پیدا ہونے کی خبر دیتا ہے یہاں تک کہ کہتا ہے کہ فلاں شخص نہیں مرے گا جب تک وہ پسر چہارم پیدا نہ ہولے۔ پس اس کے قول کے مطابق پسر چہارم بھی پیدا ہوجاتاہے۔ اب سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ انسان کی کارروائیاں ہیں؟ اور کیا آسمان کے نیچے یہ قوت کسی کو دی گئی ہے کہ اِس زور شور کی مسلسل پیشگوئیاں میدان میں کھڑا ہوکر شائع کرے اور پھر وہ برابر پوری ہو جائیں۔ دیکھو ایک وہ زمانہ تھا جو ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۱۵ میں یہ عبارت لکھی گئی تھی:۔ ایک اور الہام ہے جو ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء میں شائع ہوا تھا اور وہ یہ ہے کہ خدا تین کو چار کرے گا۔ اس وقت اِن تین لڑکوں کا جو اب موجود ہیں نام و نشان نہ تھا۔ اور اِس الہام کے معنے یہ تھے کہ تین لڑکے ہوں گے اور پھر ایک اور ہوگا جو تین کو چار کردے گا۔ سو ایک بڑا حصہ اِس کا پورا ہوگیا یعنی خدا نے تین لڑکے مجھ کو اِس نکاح سے عطا کئے جو تینوں موجود ہیں۔ صرف ایک