گئی تھی۔ اور پھر جیسا کہ رسالہ ضیاء الحق کے اخیر ورق ٹائٹل پیج پر شائع کیا گیا ہے یہ لڑکا یعنی شریف احمد ۲۴؍ مئی ۱۸۹۵ ء کو مطابق ۲۷؍ ذیقعد ۱۳۱۲ ھ پیدا ہوا یعنی پیشگوئی کے شائع ہونے کے بعد نویں مہینے پیدا ہوا۔
اور میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے اس کی نسبت پیشگوئی اشتہار ۲۰؍ فروری۱۸۸۶ ء میں کی گئی اور پھر انجام آتھم کے صفحہ ۱۸۳میں بتاریخ ۱۴؍ ستمبر ۱۸۹۶ ء یہ پیشگوئی کی گئی۔ اور رسالہ انجام آتھم بماہ ستمبر ۱۸۹۶ ء بخوبی ملک میں شائع ہوگیا اور پھر یہ پیشگوئی ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ میں اِس شرط کے ساتھ کی گئی کہ عبد الحق غزنوی جو امرتسر میں مولوی عبد الجبار غزنوی کی جماعت میں رہتا ہے نہیں مرے گا جب تک یہ چو۴تھا بیٹا پیدا نہ ہولے۔ اور اس صفحہ ۵۸ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر عبد الحق غزنوی ہماری مخالفت میں حق پر ہے او رجناب الٰہی میں قبولیت رکھتا ہے تو اِس پیشگوئی کو دعا کرکے ٹال دے۔ اور پھر یہ پیشگوئی ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۱۵ میں کی گئی۔ سو خدا تعالیٰ نے میری تصدیق کے لئے اور تمام مخالفوں کی تکذیب کے لئے اور عبد الحق غزنوی کو متنبہ کرنے کے لئے اِس پسر چہارم کی پیشگوئی کو ۱۴؍ جون ۱۸۹۹ ء میں جو مطابق ۴؍ صفر ۱۳۱۷ ھ تھی بروزچار شنبہ پورا کردیا یعنی وہ مولود مسعود چو۴تھا لڑکا تاریخ مذکورہ میں پیدا ہوگیا۔ چنانچہ اصل غرض اِس رسالہ کی تالیف سے یہی ہے کہ تا وہ عظیم الشان پیشگوئی جس کا وعدہ چار مرتبہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوچکا تھا اس کی ملک میں اشاعت کی جائے کیونکہ یہ انسان کو جرأت نہیں ہوسکتی کہ یہ منصوبہ سوچے کہ اوّل تو مشترک طور پر چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی پیشگوئی کرے۔ جیسا کہ اشتہار۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء میں کی گئی اور پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اُس کے پیدا ہونے کی پیشگوئی کرتا جائے اور اس کے مطابق لڑکے پیدا ہوتے جائیں۔ یہاں تک کہ چار کا عدد جو پہلی پیشگوئیوں میں قرار دیا تھا وہ پورا ہو جائے حالانکہ یہ پیشگوئی اس کی طرف سے ہو کہ جو محض افترا سے