میں وہ پیدا ہوئے۔ اور بہتر ہوگا کہ ہر ایک طالبِ حق ایسے رسالے اور ایسے اشتہار اپنے پاس رکھے۔ کیونکہ ایک مدت کے بعد پھر ان اشتہارات کاملنا مشکل ہوگا۔ اور جب کوئی کاغذ مل نہ سکے تو دشمن خیرہ طبع باوجود اس کے کہ اس نے آپ اس اشتہار یارسالہ کو کئی دفعہ پڑھا ہو۔ محض حق پوشی کی راہ سے انکار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ سو یہ فرض ہماری جماعت کا ہے کہ ان منکر کش ہتھیاروں سے خالی نہ رہیں بلکہ یہ تمام ذخیرہ رسائل او راشتہارات کا ایک جگہ بخوبی مرتب کرکے مجلد کرکے رکھیں تا بوقت ضرورت مخالف ظالم کو بآسانی دکھلا سکیں۔ اور ان چاروں لڑکوں کے پیدا ہونے کی نسبت پیشگوئی کی تاریخ اور پھر پیدا ہونے کے وقت پیدایش کی تاریخ یہ ہے کہ محمود جومیرا بڑا بیٹا ہے اس کے پیدا ہونے کے بارے میں اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ ؁ء میں اور نیز اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ ؁ء میں جو سبز رنگ کے کاغذ پر چھاپا گیا تھا پیشگوئی کی گئی اور سبز رنگ کے اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس پیدا ہونے والے لڑکے کا نام محمود رکھا جائے گا اور یہ اشتہار محمود کے پیدا ہونے سے پہلے ہی لاکھوں انسانوں میں شائع کیا گیا۔ چنانچہ اب تک ہمارے مخالفوں کے گھروں میں صدہا یہ سبز رنگ اشتہار پڑے ہوئے ہوں گے۔ اور ایسا ہی دہم جولائی ۱۸۸۸ ؁ء کے اشتہار بھی ہر ایک کے گھر میں موجود ہوں گے۔ پھر جب کہ اِس پیشگوئی کی شہرت بذریعہ اشتہارات کامل درجہ پر پہنچ چکی اور مسلمانوں اور عیسائیوں ا ور ہندوؤں میں سے کوئی بھی فرقہ باقی نہ رہا جو اس سے بے خبر ہو۔ تب خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ ؁ء کو مطابق ۹؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۶ ؁ھ میں بروز شنبہ محمود پیدا ہوا۔ اور اس کے پیدا ہونے کی مَیں نے اس اشتہار میں خبر دی ہے جس کے عنوان پر تکمیل تبلیغ موٹی قلم سے لکھا ہوا ہے جس میں بیعت کی دس شرائط مندرج ہیں۔ اور اس کے صفحہ ۴ میں یہ الہام پسر موعود کی نسبت ہے ؂ اے فخرِ رُسل قُربِ تو معلومم شد دیرآمد ۂزراہ دُور آمدۂ