لحاظ سے اُس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ* لیا یعنی ماہ صفر۔ اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چارشنبہ۔ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا۔ اور پیشگوئی ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء کے مطابق پیر کے دن اس کا عقیقہ ہوا۔ اور اس کی پیدائش کے دن یعنی بروز چارشنبہ چوتھے گھنٹہ میں کئی دن کے امساکِ باراں کے بعد خوب بارش ہوئی۔
یہ چارلڑکے ہیں جن کی پیدائش سے پہلے ان کے پیدا ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ
نے ہر ایک دفعہ پر مجھے خبردی اور یہ ہر چہار پیشگوئی نہ صرف زبانی طور پر لوگوں کو سنائی گئیں بلکہ پیش از وقت اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعہ سے لاکھوں انسانوں میں مشتہر
کی گئیں۔ اور پنجاب اور ہندوستان بلکہ تمام دنیا میں اس عظیم الشان غیب گوئی کی نظیر نہیں ملے گی۔ اور کسی کی کوئی پیشگوئی ایسی نہیں پاؤگے کہ اوّل توخدا تعالیٰ چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی اکٹھی خبردے اور پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے الہام سے اطلاع کردے کہ وہ پیدا ہونے والاہے۔ اور پھر وہ تمام پیشگوؔ ئیاں لاکھوں انسانوں میں شائع کی جائیں۔ تمام دنیا میں پھرو اگر اس کی کہیں نظیر ہے تو پیش کرو۔ اور عجیب تر یہ کہ چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی خبر جو سب سے پہلے اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء میں دی تھی اس وقت ہر چہار لڑکوں میں سے ابھی ایک بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ اور اشتہار مذکور میں خدا تعالیٰ نے صریح طورپر پسر چہارم کا نام مبارک رکھ دیا ہے۔ دیکھو صفحہ ۳۔ اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء دوسرے کالم کی سطر نمبر ۷ ۔ سو جب اس لڑکے کا نام مبارک احمد رکھا گیاتب اس نام رکھنے کے بعد یکدفعہ وہ پیشگوئی ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء کی یاد آگئی۔
اب ناظرین کے یاد رکھنے کے لئے ان ہر چہار پسر کی نسبت یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کس کس تاریخ میں ان کے تولد کی نسبت پیشگوئی ہوئی اور پھر کس کس تاریخ
* یہاں سہواً ’’اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا یعنی ماہ صفر‘‘لکھا گیا ہے۔ درست اسی کتاب کے صفحہ۲۲۱ پر یوں لکھا ہے