یعنی کچھ تھوڑا عرصہ صبر کر کہ میں تجھے ایک پاک لڑکا عنقریب عطا کروں گا اور یہ پنجشنبہ کا دن تھا اور ذی الحج ۱۳۱۶ ؁ ھ کی دُوسری تاریخ تھی جبکہ یہ الہام ہوا۔ اور اس الہام کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔ رب اصحّ زوجتی ھذہ* یعنی اے میرے خدا میری اِس بیوی کو بیمار ہونے سے بچا۔ اور بیماری سے تندرست کر۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس بچہ کے پیدا ہونے کے وقت کسی بیماری کا اندیشہ ہے۔ سو اِس الہام کو میں نے اس تمام جماعت کو سنا دیا جو میرے پاس قادیاں میں موجود تھے اور اخویم مولوی عبد الکریم صاحب نے بہت سے خط لکھ کر اپنے تمام معزز دوستوں کو اس الہام سے خبرکردی۔ اور پھر جب ۱۳ ؍ جون ۱۸۹۹ ؁ء کا دن چڑھا جس پر الہام مذکورہ کی تاریخ کو جو ۱۳؍ اپریل ۱۸۹۹ ؁ء کو ہوا تھا۔ پورے دو مہینے ہوتے تھے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُسی لڑکے کی مجھ میں رُوح بولی اور الہام کے طورپر یہ کلام اس کا میں نے سنا۔ انّی اسقط من اللّٰہ واصیبہ۔ یعنی اب میرا وقت آگیا۔ اور میں اب خدا کی طرف سے اور خدا کے ہاتھوں سے زمین پر گروں گا۔ اور پھر اسی کی طرف جاؤں گا۔ اور اسی لڑکے نے اسی طرح پیدائش سے پہلے یکم جنوری ۱۸۹۷ ؁ء میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیااور مخاطب بھائی تھے کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔ یعنی اے میرے بھائیو میں پورے ایک دن کے بعد تمہیں ملوں گا۔ اِس جگہ ایک دن سے مراد دو۲برس تھے۔ اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔ اور پھر بعد اس کے ۱۴؍جون ۱۸۹۹ ؁ء کو وہ پیدا ہوا۔ اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اُسی مناسبت کے * بچہ پیدا ہونے کے بعد جیسا کہ الہام کا منشاء تھا میری بیوی بیمار ہوگئی چنانچہ اب تک بعض عوارض مرض موجود ہیں اور اعراض شدیدہ سے بفضلہ تعالیٰ صحت ہوگئی ہے۔ منہ