اگر مثلاًکوئی لڑکا الہام کے بعددو تین مہینے میں ہی پیدا ہو جائے تو یہ شور مچاتے ہیں کہ پیشگوئی کرنے والا علم طبابت میں بھی دسترس کامل رکھتا ہے۔ لہٰذا اس نے طبیبوں کی قرار داد ہ علامتوں کے ذریعہ سے معلوم کرلیا ہوگا کہ لڑکا ہی پیدا ہوگا کیونکہ حمل کے دن تھے۔ اور اگر مثلاً کسی پسر کے پیدا ہونے کی پیشگوئی تین چار برس پہلے اُس کی پیدایش سے کی جائے تو پھر کہتے ہیں کہ اِس دور دراز مدت تک خواہ نخواہ کوئی لڑکا ہو نا ہی تھا۔ تھوڑی مدت کیوں نہیں رکھی۔ حالانکہ یہ خیال بھی سراسر جھوٹ ہے۔ لڑکا خدا کی عطا ہے اپنا دخل اور اختیار نہیں۔ اور اِس جگہ ایک بادشاہ کو بھی دعویٰ نہیں پہنچتا کہ اتنی مدت تک ضرور لڑکا ہی پیدا ہوجائے گا۔ بلکہ اِس قدر بھی نہیں کہہ سکتا کہ اِس وقت تک آپ ہی زندہ رہے گا اوریا یہ کہ بیوی زندہ رہے گی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اِن دنوں کی ہمیشہ کی وباؤں نے جو طاعون اور ہیضہ ہے لوگوں کی ایسی کمر توڑ دی ہے کہ کوئی ایک دن کے لئے بھی اپنی زندگی پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔ علاوہ اس کے جوشخص تحدی کے طور پر ایسی پیشگوئی اپنے دعوے کی تائید میں شائع کرتاہے اگر وہ جھوٹا ہے تو خدا کی غیرت کا ضرور یہ تقاضا ہونا چاہیئے کہ ابداً ایسی مرادوں سے اس کو محروم رکھے کیونکہ اُس کا ابتر اور بے فرزند مرنا اس سے بہتر ہے کہ لوگ اُس کی ایسی مکاریوں سے دھوکہ کھائیں اور گمراہ ہوں۔ اور یہی عادۃ اللہ ہے جس کو ہمارے اہل سنت علماء نے بھی اپنے عقیدہ میں داخل کرلیا ہے۔ الغرض میں نے بار بار ان نکتہ چینیوں کو سن کر کہ چوتھا لڑکا پیدا ہونے میں دیر ہوگئی ہے جنابِ الٰہی میں تضرع کے ہاتھ اُٹھائے اور مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری دعا اور میری متواتر توجہ کی وجہ سے ۱۳؍ اپریل ۱۸۹۹ ء کو یہ الہام ہوا۔ اصبر ملیًّا سأَھب لک غلامًا ذکیًّا۔