رسالہ انوار الاسلام کے صفحہ انتالیس۳۹ کے حاشیہ میں چھاپ کر کروڑہا انسانوں میں شائع کیا گیا ۔ کیونکہ انوار الاسلام کی پانچ ہزار کاپی چھپی تھی اور پنجاب اور ہندوستان کے تمام بڑے بڑے شہروں اور قصبوں بلکہ دیہات میں شائع کیا گیا تھا۔ اور الہام مذکور جو انوار الاسلام کے صفحہ ۳۹ میں درج ہے اس کی عبارت یہ ہے انا نبشّرک بغلام یعنی ہم تجھ کو ایک لڑکا پیدا ہونے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۳۹ حاشیہ۔ پھر جب یہ پیشگوئی لاکھوں انسانوں اور ہندوؤں اورعیسائیوں اور مسلمانوں میں بخوبی شائع ہوچکی تو وہ لڑکا جس کا الہام میں وعدہ دیا گیا تھا بتاریخ ۲۷؍ ذیقعد ۱۳۱۲ ء مطابق ۲۴ مئی ۱۸۹۵ ء پیدا ہوا۔ جس کا نام شریف احمد رکھا گیا۔ دیکھو اخیر ورق ٹائٹل پیج رسالہ ضیاء الحق۔
۲۵ میرے چوتھے لڑکے کے متعلق ایک اور پیشگوئی کانشان ہے۔ جوانشاء اللہ ناظرین کے لئے موجب زیادت علم و ایمان و یقین ہوگا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ الہام جس کو میں نے کتاب انجام آتھم کے صفحہ ۱۸۲ و ۱۸۳۔ اور ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ میں لکھا ہے جس میں چوتھا لڑکا پیدا ہونے کے بارے میں پیشگوئی ہے جو جنوری ۱۸۹۷ ء میں بذریعہ کتاب مذکور یعنی انجام آتھم اور ضمیمہ انجام آتھم کے لاکھوں انسانوں میں شائع کی گئی جس کو آج کی تاریخ تک جو ۲۰ ؍ اگست ۹۹ ء ہے پونے تین برس سے کچھ زیادہ دن گذر گئے ہیں۔ اِس تھوڑی سی مدت کو مخالفوں نے ایک زمانہ دراز خیال کرکے یہ نکتہ چینی شروع کردی کہ وہ الہام کہاں گیا جو انجام آتھم کے صفحہ ۱۸۲ اور ۱۸۳۔ اور اس کے ضمیمہ کے صفحہ ۵۸ میں درج کرکے شائع کیا گیا تھا۔ اور لڑکا ابؔ تک پیدا نہیں ہوا۔ اِس لئے پھر میرے دل میں دعا کی خواہش پیدا ہوئی ۔ گو میں جانتا ہوں کہ نامنصف دشمن کسی طرح راضی نہیں ہوتے۔