اس بات کا علم خدا تعالیٰ کو ہے کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی بات اُس کے ارادہ کے موافق ہے۔ اور میں نے اِس پیشگوئی کو اپنے رسالہ انجام آتھم کے صفحہ ۱۸۳۔ اور ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ میں پیش از وقت ہزارہا انسانوں میں شائع کردیا ہے۔
۲۲ میرا پہلا لڑکا جو زندہ موجود ہے جس کا نام محمود ہے ابھی وہ پیدا نہیں ہوا تھا جو مجھے کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی اور میں نے مسجد کی دیوار پر اس کا نام لکھا ہوا یہ پایا کہ محمود تب میں نے اِس پیشگوئی کے شائع کرنے کے لئے سبز رنگ کے ورقوں پر ایک اشتہار چھاپا۔ جس کی تاریخ اشاعت یکم دسمبر۱۸۸۸ ء ہے اور یہ اشتہار مورخہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ ء ہزاروں آدمیوں میں شائع کیا گیا اور اب تک اس میں سے بہت سے اشتہارات میرے پاس موجود ہیں۔
۲۳ میرا دوسرا لڑکا جس کا نام بشیر ہے ابھی پیدا نہیں ہوا تھا کہ اس کی پیدائش سے تین مہینے پہلے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے پیدا ہونے کی بشارت دی۔ وہ بشارت آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۲۶۶ میں درج ہوکر پیش از وقت لاکھوں انسانوں میں شائع کی گئی۔ وہ عبارت یہ ہے۔ سیولد لک الولد و ید نٰی منک الفضل یعنی عنقریب تیرے ایک لڑکا پیدا ہوگا اور فضل تیرے نزدیک کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ایک میرے لڑکے کا نام فضل احمد ہے سو پیشگوئی میں یہ اشارہ ہے کہ علاوہ فضل الٰہی کے وہ لڑکا فضل احمد کی صورت اور شکل سے بہت مشابہ ہوگا۔ اور صدہا انسان جانتے ہیں کہ یہ لڑکا فضل احمد سے بہت مشابہ ہے ۔ ہندو مسلمان قادیان کے سب جانتے ہیں۔
۲۴ خدا تعالیٰ نے میرے گھر میں تیسرا لڑکا پیدا ہونے کے لئے نو ۹ مہینے پہلے اس کی پیدائش سے بذریعہ اپنے الہام کے مجھ کو خبردی ۔ اور وہ الہام ۵؍ ستمبر ۱۸۹۴ ء کو