بلکہ پندرہ یا سولہ اُس کے ساتھ آدمی آئے ہیں جو گواہ تھے وہ سب کہتے ہیں کہ مقدمہ خارج ہوا۔ اور غیر ممکن ہے کہ اِس قدر لوگ جھوٹ بولتے ہوں۔ اوروہ آریہ مسجد میں جو قریب بازار ہے یہ بات کہہ کر چلا گیا اور میں مسجد میں اکیلا رہ گیا اور عصر کا وقت تھا۔ تب ایک غیبی آواز کرنے والے نے زور سے کہا کہ ڈگری ہوگئی ہے اور ایسی شدت سے آواز تھی کہ میں نے خیال کیا کہ یہ آواز اوروں نے بھی سنی ہوگی تب میں اُس آریہ سے پھر ملا اور اپنے الہام سے اِطلاع دی۔ مگر وہ گواہوں کی کثرت تعداد کو دیکھ کر اعتبار نہ کرسکا اور پھر بھی ہنس کر چلا گیا۔ گویا وہ اپنے دل میں میری خام خیالی پر ہنسا۔ دوسرے دن خود میں بٹالہ میں گیا اور تحصیلدار کے مثل خوان متھرا داس نامی سے دریافت کیا کہ ہمارے مقدمہ میں کیاحکم ہوا؟ اُس نے کہا کہ ڈگری ہوئی۔ میں نے کہا کہ پھر کیا سبب ہے کہ جھنڈا سنگھ اور اُس کے تمام گواہوں نے قادیان میں جاکر یہ مشہور کیا ہے کہ مقدمہ خارج ہوا۔ اُس نے کہا کہ اُنہوں نے بھی ایک طور سے سچ کہا۔بات یہ ہے کہ تحصیلدار نیا ہے میری غیر حاضری میں وہ مقدمہ پیش ہوا تھا اور میں اتفاقاً قریب ڈیڑھ گھنٹہ تک کسی کام کو چلا گیا تھاچنانچہ اس وقت جب میں نہیں تھا جھنڈا سنگھ مدعا علیہ نے تحصیلدار کو صاحب کمشنر کا ایک فیصلہ دکھلایاجس میں لکھا ہوا تھا کہ قادیان کے دخیل کاروں کو اختیار ہے کہ بغیر مالکوں کی اجازت کے اپنے کھیتوں سے حسب ضرورت درخت کاٹ لیا کریں۔ اس لئے تحصیلدار نے اس کی نقل فیصلہ کو دیکھ کر آپ کا مقدمہ خارج کردیا۔ اور اُن کو رخصت کردیا تب قریباً ایک گھنٹہ کے بعد میں آگیا اور مجھے اُنہوں نے اپنا وہ حکم دکھلایا میں نے کہا کہ آپ کو اُس مدعا علیہ نے دھوکہ دیا۔ یہ فیصلہ تو منسوخ شدہ ہے۔ اور اِس کے بعد میں صاحب فنانشل کمشنر کا فیصلہ ہے جو شامل مثل ہے جس سے یہ حکم منسوخ کیا گیا ۔ تب تحصیلدار نے وہ فیصلہ دیکھ کر