کے حالات کے مندرج تھی۔ پھر وہ کتاب مجھ کو دکھلائی اور کہا کہ میں اِس کو بڑے اہتمام سے محفوظ رکھتا ہوں کہ اِس سے خدا کی قدرت یاد آتی ہے۔ اور پھر دوسرے دِن صبح کے وقت فوت ہوگئے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ نوٹ بک ان کی جس کو بڑے اہتمام اور محبت سے وہ اپنے پاس رکھتے تھے۔اب لدھیانہ میں ان کے بیٹے کے پاس محفوظ ہوگی او رضرور ہوگی۔ سو دیکھو کس کس پہلو سے خدا تعالیٰ کے نشان ظاہر ہوئے ہیں۔
۱۳ راجہ جہاں داد خانصاحب جو اب گوجرانوالہ میں اکسٹرااسسٹنٹ ہیں اور اپنے نواح کے رئیس اعظم اور بہت سے دیہات کے جاگیردار ہیں ایک نشان کے وہ گواہ ہیں جس کے پورا ہونے پر انہوں نے بیعت کی۔ اگر حلفاً پوچھا جائے تو ہرگز انکار نہیں کریں گے۔
۱۴ ایک مرتبہ مجھے اپنے ایک زمینداری مقدمہ کے متعلق جو تحصیل بٹالہ میں دائر تھا۔ خواب آئی کہ جھنڈا سنگھ نام ایک دخیل کار پر جو دفعہ ۵ ایکٹ مزارعان کا دخیل کار تھا۔ ہماری ڈِگری ہوگئی ہے۔ اُس دخیل کار پر بوجہ قیمت ایک درخت کیکر جس کو اُس نے اپنے کھیت سے ہماری اجازت کے بغیر کاٹ لیا تھا۔3 روپیہ کی نالش کی گئی تھی۔ سو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ دعویٰ مسموع ہوکر ڈگری کی گئی۔ اتفاقاً میں نے اس خواب کو اُسی آریہ ؔ کے پاس بیان کیا جس کا میں پہلے ذکر کرچکا ہوں یعنی لالہ شرمپت کھتری ساکن قادیاں۔ پھر دوسرے دن ایسا اتفاق ہوا کہ جھنڈا سنگھ مذکور مع سولہ یا سترہ اپنے گواہوں کے مقدمہ مذکورہ میں اپنی تائید میں شہادت دلاکر بٹالہ سے قادیاں میں واپس آیا اور یہ مشہور کیا کہ مقدمہ خارج ہوا۔ اس پر آریہ مذکور نے ہنسی کے طور پر کہا کہ آپ کی خواب غلط ہوگئی اور نالش 3 روپیہ تحصیل سے خارج ہوئی۔ میں نے اس کو کہا کہ اُس نے یقیناًجھوٹ بولا ہے۔ تب اُس نے کہا کہ وہ اکیلا نہیں