ہوگیا اور نواب صاحب کی سرائے بیکار ہوگئی جس سے ان کو بہت تکلیف پہنچی۔ اُنہوں نے اِس مصیبت کے وقت دعا کے لئے میری طرف التجا کی اور قبل اس کے جو اُن کا خط قادیان میں پہنچے میرے پر خدا نے ظاہرکردیا کہ اِس مضمون کا خط اُنہوں نے روانہ کیاہے۔ اور خدا تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی کہ کچھ عرصہ کے لئے ان کی یہ روک اُٹھا دی جائے گی اور اِس غم سے ان کو نجات دی جائے گی۔ چنانچہ میں نے اِس تمام حال سے قبل از وقت اُن کو خبرکردی۔ اور ان کو یہ سخت تعجب ہوا کہ میرا خط جو بلا توقف روانہ کیا گیا تھااِس کا علم کیونکر ہوگیا؟ اور پھر اس پیشگوئی کے پورا ہونے سے ایک عجیب رنگ کا اعتقاد میری نسبت اس کے دل میں بیٹھ گیا۔ اور وہ ہمیشہ مجھے کہا کرتا تھا کہ میں نے اپنی نوٹ بک میں اس پیشگوئی کو یاد داشت کے لئے لکھ چھوڑا ہے اور ہمیشہ اس کو پڑھ لیا کرتا ہوں اور کئی لوگوں کو اُس نے اپنی یہ کتاب دکھلائی اور ایک دن میرے روبرو پٹیالہ میں وزیر محمد حسین خانصاحب کو بھی کتاب میں وہ موقعہ دکھلایا اور ان کو کہا کہ میرے یقین کے لئے یہ کافی ہے کہ میرے خط کی اطلاع خدا تعالیٰ کی طرف سے خط پہنچنے سے پہلے مل گئی جس کی مجھ کو بلا توقف خبر دی گئی۔ اور دوسرے یہ کہ یہ میرا کام جو بظاہر ایک ناشدنی امر تھا اس کے ہوجانے کی قبل از وقت اطلاع دے دی۔ اور میں جانتا ہوں کہ یہ علم جو قدرت کے ساتھ ملا ہوا ہے بجز خدا کے اور کسی کی طاقت میں نہیں۔ ایساہی نواب صاحب موصوف کا اخیر زندگی تک ہمیشہ یہ حال رہا کہ اِس پیشگوئی کی یاد سے ان کو ایک وجد کی حالت ہوجاتی تھی اور ہمیشہ اس کو پڑھا کرتے تھے یہاں تک کہ جب ان کی موت کا وقت آیا اور میں عیادت کے لئے گیا تو اُس شام کے وقت جس کی صبح میں ان کا انتقال ہونا تھااُنہوں نے مجھ کو دیکھ کر یہ ہمت کی کہ باوجود سخت تکلیف خون بواسیر کے جس کی کثرت سے اُن کی وفات ہوئی اندر کے دالان میں چلے گئے اور وہ نوٹ بک اپنی لے آئے جس میں وہ پیشگوئی مع اُس کے پورا ہوجانے