کوئی ابتلا پیش آوے‘‘ یہ ایک چھوٹے سے کاغذ پر رُقعہ ہے جو اب تک اتفاقاً میرے پاس محفوظ رہا ہے۔ اور میری جماعت کے پچاس کے قریب دوستوں نے بچشم خود اس کو دیکھ لیا اور خط پہچان لیا ہے۔ اور مجھے امید نہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب اِس سے انکار کریں۔ اور اگر کریں تو پھر حلف دینے سے حقیقت کھل جائے گی۔ غرض اِس ابتلا کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اس نے دفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں۔ اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوا میں نے طیار کی۔ اور ا س میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دِلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پُر صحت طاقت جو ایک پورؔ ے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کئے گئے ۔ اگردنیا اِس بات کو مبالغہ نہ سمجھتی تو میں اِس جگہ اس واقعہ حقّہ کو جو اعجازی رنگ میں ہمیشہ کے لئے مجھے عطا کیا گیا بہ تفصیل بیان کرتا تا معلوم ہوتا کہ ہمارے قادر قیّوم کے نشان ہررنگ میں ظہور میں آتے ہیں اور ہر رنگ میں اپنے خاص لوگوں کو وہ خصوصیت عطا کرتا ہے جس میں دنیا کے لوگ شریک نہیں ہوسکتے۔ میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں خدا داد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔ اس لئے میرا یقین ہے کہ ہمارا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ ۱۲ ایک صاحب نواب محمد علی خاں نام جھجر کے نوابوں میں سے لدھیانہ میں رہتے تھے اور انہوں نے لدھیانہ میں اِس غرض سے ایک سرائے بنائی تھی کہ تاجس قدر غلہ باہر سے آتا ہے اس کی اسی سرائے میں خرید و فروخت ہو۔ اور اسی سرائے میں غلہ بیچنے والے اپنا مال اُتاریں۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک اور شخص اِس کام میں ان کا رہزن