شادی میں تجھے کچھ فکر نہیں کرنا چاہیئے۔ ان تمام ضروریات کا رفع کرنا میرے ذمہ رہے گا۔ سو قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُس نے اپنے وعدہ کے موافق اس شادی کے بعد ہر ایک بارِ شادی سے مجھے سبکدوش رکھا اور مجھے بہت آرام پہنچا۔ کوئی باپ دنیا میں کسی بیٹے کی پرورش نہیں کرتا جیسا کہ اُس نے میری کی۔ اور کوئی والدہ پوری ہشیاری سے دن رات اپنے بچہ کی ایسی خبر نہیں رکھتی جیسا کہ اُس نے میری رکھی اورجیسا کہ اُس نے بہت عرصہ پہلے براہین احمدیہ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ۔ ایسا ہی وہ بجا لایا۔ معاش کا غم کرنے کے لئے کوئی گھڑی اُس نے میرے لئے خالی نہ رکھی ۔ اور خانہ داری کے مہمات کے لئے کوئی اضطراب اُس نے میرے نزدیک آنے نہ دیا۔ ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اِس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا او رمیں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر مع دورانِ سرقدیم سے میرے شاملِ حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اِس لئے میری حالت مردمی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اِس لئے میری اِس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا ۔ اور ایک خط جس کو میں نے اپنی جماعت کے بہت سے معزز لوگوں کو دکھلا دیا ہے جیسے اخویم مولوی نور الدین صاحب اور اخویم مولوی برہان الدین وغیرہ ۔ مولوی محمد حسین صاحب ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے ہمدردی کی راہ سے میرے پاس بھیجا کہ’’ آپ نے شادی کی ہے اور مجھے حکیم محمد شریف کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اِس لائق نہ تھے ۔ اگر یہ امر آپ کی روحانی قوت سے تعلق رکھتا ہے تو میں اعتراض نہیں کرسکتاکیونکہ میں اولیاء اللہ کے خوارق اور روحانی قوتوں کا منکرنہیں ورنہ ایک بڑے فکر کی بات ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ