کہ ایک شریف خاندان میں وہ میری شادی کرے گا اور وہ قوم کے سیّد ہوں گے *اور اس بیوی کو خدا مبارک کرے گا اور اس سے اولاد ہوگی۔ اوریہ خواب اُن ایّام میں آئی تھی کہ جب میں بعض اعراض اور امراض کی وجہ سے بہت ہی ضعیف اور کمزور تھا بلکہ قریب ہی وہ زمانہ گذر چکا تھا جبکہ مجھے دِق کی بیماری ہوگئی تھی اور بباعث گوشہ گزینی اور ترکِ دنیا کے اہتمامات تأہّل سے دِل سخت کَارِہ تھا اور عیال داری کے بوجھ سے طبیعت متنفرّ تھی۔ تو اِس حالت پُر ملالت کے تصور کے وقت یہ الہام ہوا تھا۔ ہرچہ باید نو عروسے راہمہ ساماں کنم۔ یعنی اِس * نوٹ :۔ ہمارا خاندان جو ایک ریاست کا خاندان تھا۔ اس میں عادۃ اللہ اس طرح پر واقع ہوئی ہے کہ بعض بزرگ دادیاں ہماری شریف سادات کی لڑکیاں تھیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کے بعض الہامات میں بھی اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اِس عاجز کے خون کی بنی فاطمہ کے خون سے آمیزش ہے۔ اور درحقیقت وہ کشف براہین احمدیہ صفحہ ۵۰۳ کا جس میں لکھا ہے کہ میں نے دیکھا کہ میرا سر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مادرِ مہربان کی طرح اپنی ران پر رکھا ہوا ہے۔ اِس سے بھی یہ اشارہ نکلتا ہے۔ الہام مندرجہ براہین صفحہ ۴۹۰ میں یہ بشارت دی تھی ۔ سبحان اللّٰہ تبارک و تعالٰی زاد مجدک۔ ینقطع آباء ک ویبدء منک۔ یعنی سب پاکیاں خدا کے لئے ہیں جو نہایت برکت والا اور عالی ذات ہے۔ اُس نے تیری بزرگی کو زیادہ کیا۔ اب سے تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہوگا اور ابتدا خاندان کا تجھ سے کیاجائے گا۔ یعنی جس طرح ابراہیم علیہ السلام اپنے نئے خاندان کا بانی ہوا ایسا ہی تو بھی ہوگا۔ کیونکہ الہام میں بار بار اِس عاجز کا نام ابراہیم رکھا گیا ہے جیسا کہ براہین صفحہ ۵۶۱ میں یہ الہام ہے۔ سلام علٰی ابراھیم صافیناہ ونجّینا ہ من الغم۔ تفردنا بذالک۔ فاتخذوامن مقام ابراھیم مُصَلّٰی۔ یعنی اے ابراہیم تجھ پر سلام ہم نے ابراہیم سے صافی محبت کی اور اس کو غم سے نجات دی۔ ہم ہی اِس بات سے خاص ہیں۔ پس اگر تم مقامِ اصطفاء چاہتے ہو تو تم اس مقام پر اپنا قدم عبودیت رکھو جو ابراہیم یعنی اِس عاجز کا مقام ہے۔ منہ