نور احمد نے کہا کہ خدا کی قدرت سے کیا تعجب کہ وہ لڑکا دے۔ اس سے قریباً تین برس کے بعد جیسا کہ ابھی لکھتا ہوں دہلی میں میری شادی ہوئی اور خدا نے وہ لڑکا بھی دیا اور تین اور عطا کئے۔ اِس بیان کی تمام یہ لوگ تصدیق کریں گے بشرطیکہ قسم نمونہ نمبر ۲ دے کر پوچھا جائے۔ اور حافظ نور احمد سخت مخالف ہے مگر نمونہ نمبر۲ کی قسم اس کو بھی سچ بولنے پر مجبور کرے گی۔ ۱۰ تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گذرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنّہ کے مکان پر جانے کا اِتفاق ہوا۔ اُس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے ؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سناچکا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ بِکر وثیّب جس کے یہ معنے اُن کے آگے او ر نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بِکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بِکر کے متعلق تھا پورا ہوگیا۔ اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چارپسر اِس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔ میں نہیں یقین کرسکتا کہ مولوی محمد حسین بوجہ شدّتِ عناد اور تعصب اِس پیشگوئی کی نسبت اپنی واقفیت بیان کرسکے لیکن اگر حلف مطابق نمونہ نمبر ۲ دی جائے تو اِس صورت میں امید ہے کہ سچ بول دے۔ ۱۱ تخمیناً سولہ برس کا عرصہ گذر ا ہے کہ میں نے شیخ حامد علی اور لالہ شرمپت کھتری ساکن قادیاں اور لالہ ملاوامل کھتری ساکن قادیاں اور جان محمد مرحوم ساکنؔ قادیاں اور بہت سے اور لوگوں کو یہ خبردی تھی کہ خدا نے اپنے الہام سے مجھے اطلاع دی ہے