ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اور اِس بات کے گواہ بھی بعض قادیان کے ہندو اور کئی سو مسلمان ہوں گے جو حلفاً بیان کرسکتے ہیں اور اس قسم کے نشان دو ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اور یہ اِس بات کی بھی دلیل ہے کہ کیونکر خدا تعالیٰ حاجات کے وقت میں میرا متولی اور متکفل ہوتا رہا ہے۔ اور اکثر عادت الٰہی مجھ سے یہی ہے کہ وہ پیش از وقت مجھے بتلا دیتا ہے کہ وہ دنیا کے انعامات میں سے کسی قسم کا انعام مجھ پرکرنا چاہتاہے اور اکثر وہ مجھے بتلا دیتا ہے کہ کل تو یہ کھائے گا اور یہ پئے گا اور یہ تجھے دیا جائے گا ۔ اور ویسا ہی ظہور میں آجاتا ہے کہ جو وہ مجھے بتلاتا ہے ۔ اور اِن باتوں کی تصدیق چند ہفتہ میرے پاس رہنے سے ہر ایک شخص کرسکتا ہے۔ ایسے نشان شیخ حامد علی مذکور اور لالہ شرمپت اور ملاوامل نے بہت دیکھے ہیں اور وہ حسب نمونہ قسم نمبر ۲ حلفاً بیان کرسکتے ہیں اور میری جماعت کے دوستوں میں سے کوئی کم ہوگا جس نے ایک دو مرتبہ بچشم خود ایسا نشان نہ دیکھا ہوگا۔
۹ عرصہ تخمیناً اٹھارہ برس کا ہوا ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پاکر چند آدمیوں کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے اِس بات کی خبر دی کہ خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ انّا نبشر* بغلام حسین ۔ یعنی ہم تجھے ایک حسین لڑکے کے عطا کرنے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ میں نے یہ الہام ایک شخص حافظ نور احمد امرتسری کو سنایا جو اب تک زندہ ہے اور بباعث میرے دعویٰ مسیحیت کے مخالفوں میں سے ہے۔ اور نیز یہی الہام شیخ حامد علی کو جو میرے پاس رہتا تھا سنایا۔ اور دو ہندوؤں کو جو آمد و رفت رکھتے تھے یعنی شرمپت اور ملاوا مل ساکنانِ قادیاں کو بھی سنایا۔ اور لوگوں نے اس الہام سے تعجب کیاکیونکہ میری پہلی بیوی کو عرصہ بیس سال سے اولاد ہونی موقوف ہوچکی تھی اور دوسری کوئی بیوی نہ تھی۔ لیکن حافظ
* تریاق القلوب ایڈیشن اول میں یہ الہام یونہی لکھا ہے جبکہ تریاق القلوب میں حضورعلیہ السلام کے کئے ہوئے ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ک سہوکتابت سے لکھنے سے رہ گیا ہے۔ پیرسراج الحق صاحب نعمانی نے اپنے مرتب کردہ مجموعہ الہامات ’’البشریٰ‘‘ کے صفحہ ۳۸ پر اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب نے تذکرہ ایڈیشن اول کے صفحہ۳۵پر تریاق القلوب صفحہ ۳۴ کا ہی حوالہ دیتے ہوئے انا نبشرک تحریر فرمایا ہے۔ (ناشر)