میرے والد صاحب کی وفات قبل؂ ۱ از غروب آفتاب ہوئی۔ باوجود اس کے کہ وہ بیماری سے صحت پاچکے تھے اورقوی تھے اور کچھ آثارِ موت ظاہر نہ تھے اور کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک برس تک بھی فوت ہو جائیں گے۔ لیکن مطابق منشاء الہام سورج کے ڈوبنے کے بعد انہوں نے انتقال فرمایا۔ اور پھر دوسرا الہام یہ پورا ہوا کہ والد مرحوم و مغفور کی وفات سے مجھے کچھ دنیوی صدمہ نہیں پہنچا جس کا اندیشہ تھا بلکہ ؔ خدائے قدیر نے مجھے اپنے سای ۂ عاطفت کے نیچے ایسا لے لیا کہ ایک دنیا کو حیرا ن کیا اور اس قدر میری خبرگیری کی اور اِس قدر وہ میرا متولّی اور متکفّل ہوگیا کہ باوجود اس کے کہ میرے والد صاحب مرحوم کے انتقال کو چوبیس برس آج کی تاریخ تک جو ۲۰؍ اگست ۱۸۹۹ ؁ء اور ربیع الثانی ۱۳۱۷ ؁ھ ہے گذر گئے ہر ایک تکلیف اور حاجت سے مجھے محفوظ رکھا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ میں اپنے والد کے زمانہ میں ایک گمنام تھا۔ خد ا نے اُن کی وفات کے بعد لاکھوں انسانوں میں مجھے عزت کے ساتھ شہرت دی اور میں والد صاحب کے زمانہ میں اپنے اقتدار اور اختیار سے کوئی مالی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ اور خدا تعالیٰ نے ان کے انتقال کے بعد اِس سلسلہ کی تائید کے لئے اِس قدر میری مدد کی اور کر رہا ہے کہ جماعت کے درویشوں اور غریبوں اور مہمانوں اور حق کے طالبوں کی خوراک کے لئے جو ہر ایک طرف سے صدہا بندگانِ خدا آرہے ہیں اور نیز تالیف کے کام کے لئے ہزارہا روپیہ بہم پہنچایا اور ہمیشہ پہنچاتا ہے اِس بات کے گواہ اِس گاؤں کے تمام مسلمان اور ہندو ہیں جو دو ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔ ۸ ایسا اتفاق دو ہزار مرتبہ سے بھی زیادہ گذرا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری حاجت کے وقت مجھے اپنے الہام یا کشف سے یہ خبر دی کہ عنقریب کچھ روپیہ آنے والا ہے اور بعض وقت آنے والے روپیہ کی تعداد سے بھی خبردے دی۔ اور بعض وقت یہ خبر دی کہ اِس قدر روپیہ فلاں تاریخ میں اور فلاں شخص کے بھیجنے سے آنے والا ہے اور