اور حلف نمونہ نمبر ۲ پر ہی ہوگی۔ اور یہ نشان انہی ایام میں کتاب سُرمہ چشم آریہ میں درج کیا گیا تھا۔ دیکھو میری کتاب سُرمہ چشم آریہ صفحہ ۱۰۲۔ حاشیہ مطبع اسلامیہ پریس لاہور ۱۸۹۳ ؁ء۔ ۷ میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کی وفات کا جب وقت قریب آیا اور صرف چند پہر باقی رہ گئے تو خدا تعالیٰ نے ان کی وفات سے مجھے ان الفاظ عزاپُرسی کے ساتھ خبردی والسّماء والطّارق۔ یعنی قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اُس حادثہ کی جو آفتاب کے غروب کے بعد ظہور میں آئے گا۔ اور چونکہ ان کی زندگی سے بہت سے وجوہ معاش ہمارے وابستہ تھے اِس لئے بشریت کے تقاضا سے یہ خیال دل میں گذرا کہ ان کی وفات ہمارے لئے بہت سے مصائب کا موجب ہوگی۔ کیونکہ وہ رقم کثیر آمدنی کی ضبط ہو جائے گی جو ان کی زندگی سے وابستہ تھی۔ اِس خیال کے آنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔ الیس اللّٰہ بکافٍ عبدہٗ یعنیکیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔ تب وہ خیال یوں اُڑ گیا جیسا کہ روشنی کے نکلنے سے تاریکی اُڑ جاتی ہے اور اُسی دن غروبِ آفتاب کے بعد میرے والد صاحب فوت ہوگئے جیسا کہ الہام نے ظاہر کیا تھا اور جو الہام الیس اللّٰہ بکافٍ عبدہٗ ہوا تھا وہ بہت سے لوگوں کو قبل از وقت سنایا گیا جن میں سے لالہ شرمپت مذکور اور لالہ ملاوامل مذکور کھتریان ساکنان قادیاں ہیں اور جو حلفاً بیان کرسکتے ہیں۔ اور پھر مرزا صاحب مرحوم کی وفات کے بعد وہ عبارت الہام ایک نگین پر کھدوائی گئی۔ اور اتفاقاً اسی ملاوا مل کو جب وہ کسی اپنے کام کے لئے امرتسر جاتا تھا وہ عبارت دی گئی کہ تا وہ نگین کھدواکر اور مہربنواکر لے آئے۔ چنانچہ وہ حکیم محمد شریف مرحوم امرتسری کی معرفت بنواکر لے آیا جو اب تک میرے پاس موجود ہے جو اِس جگہ لگائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے۔3 اب ظاہر ہے کہ اِس پیشگوئی میں ایک تو یہی امر ہے کہ جو پورا ہوا یعنی یہ کہ الہام کے ایما کے موافق