اور اس کی ران میں سخت درد ہو رہا ہے اِس کا کوئی علاج پوچھنے آئے ہیں۔ تب میں نے حامد علی کو کہہ دیا کہ گواہ رہ کہ یہ پیشگوئی دو تین منٹ میں ہی پوری ہوگئی۔ شیخ حامد علی اپنے گاؤں میں زندہ موجود ہے اُس سے حلفاً ہر ایک طالبِ حق دریافت کرسکتا ہے۔ حلف وہی ہوگی جس کا نمونہ نمبر۲ میں ہم بیان کرچکے ہیں۔ ۶ ایک میرے مخلص عبد اللہ نام پٹواری غوث گڈہ علاقہ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے اور اُن کی نظر کے سامنے یہ نشان الٰہی ظاہر ہوا کہ اوّل مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضا و قدر کے اہلِ دنیا کی نیکی بدی کے متعلق اور نیز اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور پھر تمثل کے طور پرمیں نے خدا تعالیٰ کو دیکھااور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ وہ اس پر دستخط کردیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے ہو جائیں۔ سو خدا تعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کردئیے۔ اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اُس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبد اللہ کے کپڑوں پر پڑے۔ ا و رچونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے۔ اس لئے مجھے جبکہ ان قطروں سے جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے گرے اطلاع ہوئی۔ ساتھ ہی میں نے بچشم خود ان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقتِ دل کے ساتھ اِس قصّے کو میا ں عبد اللہ کے پاس بیان کر رہا تھا کہ اتنے میں اس نے بھی وہ تربتر قطرے کپڑوں پر پڑے ہوئے دیکھ لئے اور کوئی ایسی چیز ہمارے پاس موجود نہ تھی جس سے اُس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا۔ اور وہ وہی سرخی تھی جو خدا تعالیٰ نے اپنی قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبد اللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی۔ اور میاں عبد اللہ زندہ موجود ہیں اور اِس کیفیت کو حلفاً بیان کرسکتے ہیں کہ کیونکر یہ خارق عادت اور اعجازی طور پر امر تھا۔