آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی ہوجا۔ یہ الہام اس کو اور کئی آدمیوں کو سنایا گیا اور بیان کیا گیا کہ وہ اِس مرض سے شفا پا جائے گا۔ چنانچہ اس الہام کے بعد ایک ہفتہ کے اندر ہی وہ ہندو شفا پاگیا۔ یہ آریہ بھی یعنی ملاوا مل بباعث مذہبی عناد اور تعصب کے جس کا آج کل آریوں کو سبق دیا جاتا ہے ہرگز سچ نہیں بولے گا کیونکہ ان لوگوں کی یہ عادت ہے کہ وہ دوسری قوم کے مقابل پر جھوٹ بولنا یا سچی گواہی کو بہرحیلہ چھپانا ثواب سمجھتے ہیں لیکن اگر اس کو بھی وہی اولاد کی قسم دی جائے جس کا ذکر ابھی ہم نے شرمپت کی قسم میں کیا ہے تو پھر ممکن نہیں کہ جھوٹ بولے کیونکہ ان لوگوں کو خدا کی نسبت اولاد زیادہ پیاری ہے۔ جس شخص کے نزدیک جھوٹ او راخفاء حق اور گواہی کو چھپانا مذہب کے لئے سب روا بلکہ پرمیشر کی خوشی کا باعث ہو۔ اس کا بجز اِس کے کیا علاج ہے کہ اولاد کی قسم اس کو دی جائے۔ اور یہ پیشگوئی بھی عرصہ بیس برس سے ہماری کتاب براہین احمدیہ میں مندرج ہوکر لاکھوں انسانوں میں شہرت پاچکی ہے۔ دیکھو صفحہ ۲۲۷و ۲۲۸ براہین احمدیہ۔
۵ شیخ حامد علی ساکن تھہ غلام نبی ضلع گورداسپورہ جو ایک مدت تک میرے پاس رہا ہے اور بہت سے نشانوں کا گواہ ہے ایک یہ نشان اس کے روبرو ظہور میں آیا کہ ظہر کی نماز کا وقت تھا کہ یکدفعہ مجھے الہام ہواکہ تریٰ فخذًا الیمًا ۔ یعنی تو ایک دردناک ران دیکھے گا۔ تب میں نے یہ الہام اُس کو سنایا۔ اور پھر بعد اس کے بلا توقف میں نماز کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہونے لگااور وہ بھی میرے ساتھ ہی زینہ پر سے اُتراؔ ۔ جب ہم زینہ پر سے اُتر آئے تو دو گھوڑوں پر دو لڑکے سوار دکھائی دئے جن کی عمر بیس برس کے اندر اندر ہوگی۔ ایک کچھ چھوٹا اور ایک بڑا۔ وہ سوار ہونے کی حالت میں ہی ہمارے پاس آکر کھڑے ہوگئے۔ اور ایک نے اُن میں سے مجھ کو کہا کہ یہ دوسرا سوار میرا بھائی ہے