بعض نادان لوگوں نے مجھے ملزم کیا کہ تم تو کہتے تھے کہ مثل مقدمہ ماتحت عدالت میں واپس آئے گی اور قید نصف تخفیف ہوگی اور بری نہیں ہوگا اور وہ بری ہوگیا۔ تب مجھے مسجد میں سجدہ کی حالت میں یہ الہام ہوا لا تخف انک انت الاعلٰی ۔ یعنی کچھ خوف مت کر کہ تو غالب ہے اور فتح تیرے نام ہے ۔ اور تھوڑے وقت کے بعد معلوم ہوگیا کہ یہ خبر جھوٹی مشہور کی گئی تھی اور اس جھوٹی خبر کا فائدہ یہ ہوا کہ ایک اور پیشگوئی ظہور میں آگئی۔ اور یہ پیشگوئی جیسا کہ بیان کیا گیا تھا کہ مثل مقدمہ عدالت ماتحت میں واپس آئے گی اور نصف قید بشمبرداس کی تخفیف ہوگی مگر دونوں مجرم بری ہرگز نہیں ہوں گے۔ ویسا ہی بعینہٖ ظہور میں آگئی۔ یہ تمام پیشگوئی ہماری کتاب براہین احمدیہ میں عرصہ بیس برس سے مندرج ہوکر لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہوچکی ہے۔ دیکھو صفحہ ۲۵۰و ۲۵۱ و ۵۵۰ براہین احمدیہ۔
۳ پنڈت دیانند سورستی کی موت کی خبر قادیاں کے بعض ہندوؤں کو جن میں لالہ شرمپت مذکور بھی ہے۔ اس واقعہ سے قریباً تین ماہ پہلے دی گئی ا ور بیان کیا گیا کہ پنڈت مذکور پیشگوئی کے روز سے تین ماہ کے عرصہ تک فوت ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ تین ماہ کے اندر بمقام اجمیر فوت ہوگیا۔ اور کئی اور مسلمانوں کو بھی یہ خبر دی گئی اور ہر ایک حلفاً اِس واقعہ کی تصدیق کرسکتا ہے۔ مگر لالہ شرمپت کے لئے قوم پرستی کی وجہ سے یہ گواہی دینا بھی مشکل ہے جب تک کہ وہ اس مضمون کی قسم نہ کھاویں جس کا نمبر۲ میں ذکر ہوچکا ہے۔ یہ پیشگوئی بھی عرصہ بیس برس سے ہماری کتاب براہین احمدیہ میں مندرج ہوکر لاکھوں انسانوں میں شہرت پاچکی ہے ۔ دیکھو صفحہ ۵۳۵ براہین احمدیہ۔
۴ ایک ہندوآریہ ساکن قادیاں ملاوا مل نام تپ دق میں مبتلا ہوگیا اور ایک دن اپنی زندگی سے نومید ہوکر میرے پاس آکر بہت رویا۔ میں نے اُس کے حق میں دعا کی ۔ تب الہام ہوا قلنا یا نارکونی بردً ا وّسلامًا۔ یعنی ہم نے کہا کہ اے تپ کی