ہوگیا تھا ؟ کیا وہ جو درحقیقت خدا سے ہے اس کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ درحقیقت شیطان سے ہے؟
ماسوا اس کے جبکہ یہ حقیقت بھی کھل گئی کہ حضرت مسیح ہرگز مصلوب نہیں ہوئے اور کشمیر میں اُن کی قبر ہے تو اب راستی کے بھوکے اور پیاسے کیونکر عیسائی مذہب پر قائم رہ سکتے ہیں۔ یہ سامان کسر صلیب کا ہے جو خدا نے آسمان سے پیدا کیا ہے نہ یہ کہ مار مار کر لوگوں کو مسلمان بناویں۔ ہماری قوم کے علماءِ اسلام کو ذرہ ٹھہر کر سوچنا چاہیئے کہ کیا جبر سے کوئی مسلمان ہوسکتا ہے اور کیا جبر سے کوئی دین دِل میں داخل ہوسکتا ہے۔ اور جو لوگ مسلمانوں میں سے فقراء کہلاتے ہیں اور مشائخ اور صوفی بنے بیٹھے ہیں اگر وہ اب بھی اس باطل عقیدہ سے باز نہ آویں اور ہمارے دعویٰ مسیحیت کے مصدق نہ ہو جائیں تو طریق سہل یہ ہے کہ ایک مجمع مقرر کرکے کوئی ایسا شخص جو میرے دعویٰ مسیحیت کو نہیں مانتا اور اپنے تئیں ملہم اور صاحبِ الہام جانتا ہے مجھے مقام بٹالہ یا امرتسر یا لاہور میں طلب کرے اور ہم دونوں جناب الٰہی میں دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جناب الٰہی میں سچا ہے ایک سال میں کوئی عظیم الشان نشان جو انسانی طاقتو ں سے بالاتر اور معمولی انسانوں کی دسترس سے بلند تر ہو اس سے ظہور میں آوے ایسا نشان کہ جو اپنی شوکت اور طاقت اور چمک میں عام انسانوں اورمختلف طبائع پر اثر ڈالنے والا ہو خواہ وہ پیشگوئی ہو۔ یا اوؔ ر کسی قسم کا اعجاز ہو جو انبیاء کے معجزات سے مشابہ ہو۔ پھر اس دعا کے بعد ایسا شخص جس کی کوئی خارق عادت پیشگوئی یا اور کوئی عظیم الشان نشان ایک برس کے اندر ظہور میں آجائے او ر اس عظمت کے ساتھ ظہور میں آئے جو اس مرتبہ کانشان حریف مقابل سے ظہور میں نہ آسکے تو وہ شخص سچا سمجھا جائے گا جس سے ایسا نشان ظہور میں آیا۔ اور پھر اسلام میں سے تفرقہ دور کرنے کے لئے شخص مغلوب پر لازم ہوگا کہ اس شخص کی مخالفت چھوڑ دے اور بلاتوقف اور بلا تامل اُس کی بیعت کرلے اور اُس خدا سے جس کا غضب کھا جانے والی آگ ہے ڈرے۔
اکثرجاہلوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ الہام شیطانی بھی ہوا کرتے ہیں۔ اُمت کے تمام اکابر اِس عقیدہ پر متفق ہیں پس ہر ایک
شخص کا الہام جو نرے الفاظ ہوں اور کوئی فوق العادت امر