اُن میں نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتا۔ اور کوئی الہام ہرگز قابلِ پذیرائی نہیں جب تک کہ اس میں الٰہی شوکت نہ ہو۔ اور الٰہی شوکت یہ ہے کہ فوق العادت اور عظیم الشان پیشگوئیاں جو الوہیت کی قدرت اور علم سے بھری ہوئی ہوں اُس الہام میں پائی جائیں یادوسرے الہاموں میں جو اسی شخص کے منہ سے نکلے ہوں۔ اور با ایں ہمہ یہ شرط بھی ہوگی کہ اِس مجلس کے انعقاد سے دس۱۰ دن پہلے بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے مجھ کو خبر کردی جائے کہ ان تینوں مقامات متذکرہ بالا میں سے فلاں مقام او رنیز فلاں تاریخ اور وقت اِس کام کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ اس اطلاع دہی کے اشتہار پر بیس۲۰ معزز اور نامور علماء اور شہر کے رئیسوں کے دستخط ہونے چاہئیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی سفلہ محض ہنسی اور شرارت سے ایسا اشتہار شائع کردے* اور نیز یہ ضروری ہوگا کہ اس دعا کے بعد اگر کوئی نشان پیشگوئی کی قسم میں سے کسی پر ظاہر ہو تو وہ پیشگوئی بذریعہ کسی اشتہار مطبوعہ کے شائع کردی جائے۔ ہاں یہ کچھ ضروری نہیں کہ وہ کوئی نئی پیشگوئی ہو بلکہ اگر کوئی پرانی پیشگوئی ہو جو ابھی پوری نہ ہوئی ہو یا ایسی پیشگوئی ہو جو ملہم نے عام طور پر لوگوں کو اس سے اطلاع نہ دی ہو تو ایسی پیشگوئی بھی لی جائے گی اور سب سے بہتر وہ پیشگوئی گنی جائے گی جو کسی دعا کے قبول ہونے پر خدا تعالیٰ سے ملی ہو کیونکہ دعاکا قبول ہونا اوّل علامت اولیاء اللہ میں سے ہے۔ اب میں اس آیت پر اس رسالہ کو ختم کرتا ہوں کہ333 ۱؂ آمین۔ وآخر دعوانا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیُنَ۔ المؤلّف خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں یکم؍ اگست ۱۸۹۹ء * کوئی قلمی خط ہمارے نام نہیں آنا چاہیئے بلکہ اگر سیدھی نیت سے مقابلہ کا ارادہ ہو ۔ تو چَھپا ہوا اطلاع نامہ جس پر بیس ۲۰ معززین کی گواہی ہوبقید وقت اور تاریخ اور مقام اور تصریح نام شخص مقابل دس ۱۰ دن پہلے میرے نام آنا چاہیئے۔ منہ