دوسرے پہلو میں اُن کے مذہب اور اُن کے اصولوں کا واقعاتِ حقہ سے تمام تانا بانا توڑ دیا جائے اور ثابت کردیا جائے کہ حضرت مسیح کامصلوب ہونا اور پھر آسمان پر چڑھ جانا دونوں باتیں جھوٹ ہیں۔ یہ طرز ثبوت ایسی ہے کہ بلا شبہ اس قوم میں ایک زلزلہ پیدا کردے گی۔ کیونکہ عیسائی مذہب کا تمام مدار کفار ہ پر ہے اور کفارہ کا تمام مدار صلیب پر اور جب صلیب ہی نہ رہی تو کفارہ بھی نہ رہا۔ اور جب کفارہ نہ رہا تو مذہب بنیاد سے گر گیا۔ * ہم اپنے بعض رسالوں میں یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ صلیب کا عقیدہ خود ایسا ہے جس سے حضرت مسیح کسی طرح سچے نبی نہیں ٹھہر سکتے کیونکہ جبکہ توریت کی رو سے مصلوب ملعون ہوتا ہے او رلعنت کا مفہوم لغت کے رو سے یہ ہے کہ کسی شخص کا دل خدا تعالیٰ سے بکلّی برگشتہ ہو جائے اور خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اُس سے بیزار ہو جائے اور وہ خدا کا دُشمن ہو جائے اور خدا اُس کا دشمن ہو جائے۔ اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ سو ملعون ہو جانا اور *** بن جانا جس کا مفہوم اس قدر بد ہے۔ یہ سخت تاریکی کیونکر مسیح جیسے راستباز کے دِل پر وارد ہوسکتی ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں نے کفارہ کا منصوبہ بنانے کے وقت *** کے مفہوم پر ذرہ غور نہیں کی اور بھول گئے ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ لقب جو شیطان پلید کو دیا گیا ہے وہی نعوذ باللہ حضرت مسیح کو دیتے۔ نہایت ضروری ہے کہ اب بھی عیسائی صاحبان عربی اور عبرانی کی کتابوں کو غور سے دیکھ کر *** کے مفہوم کو سمجھ لیں کہ یہ کیا چیز ہے۔ انہیں کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ یہ لفظ صرف اس شخص پر اطلاق پاتا ہے جس کا دِل سیاہ اور ناپاک اورخدا سے دُور اور شیطان کی طرح ہوگیا ہو اور تمام تعلقات خدا تعالیٰ سے ٹوٹ گئے ہوں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کون ایماندار یہ ناپاک لقب اس راستباز کی نسبت روا رکھ سکتا ہے جس کا نام انجیل میں نور لکھا ہے۔ کیا وہ نور کسی زمانہ میں تاریکی * عیسائی مذہب پر فتح پانے کا بجز حضرت مسیح کی طبعی موت ثابت کرنے اور صلیبی موت کے خیال کے جھوٹا ثابت کرنے کے او ر کوئی طریق نہیں سو یہ خدا نے بات پیدا کردی ہے نہ ہم نے کہ کمال صفائی سے ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح صلیب سے جان بچاکر کشمیر میں آگئے تھے اور وہیں فوت ہوئے ۔ یہ وہ اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے جیسا کہ آفتاب کا آسمان پر چمکنا۔ منہ