اور ؔ یونس کی طرح قوم میں عزت پائے گا۔ سو یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی۔ کیونکہ مسیح زمین کے پیٹ میں سے نکل کر اپنی ان قوموں کی طرف گیا جو کشمیر اور تبت وغیرہ مشرقی ممالک میں سکونت رکھتی تھیں یعنی بنی اسرائیل کے وہ دس ۱۰ فرقے جن کو شالمنذر شاہ اسور سامریہ سے مسیح سے سات سو ۷۲۱ اکیس برس*پیشتر اسیر کر کے لے گیاآخر وہ ہندوستان کی طرف آکر اس ملک کے متفرق مقامات میں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ اور ضرور تھا کہ مسیح اس سفر کو اختیار کرتا۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی اس کی نبوت کی علت غائی تھی کہ وہ ان گمشدہ یہودیوں کو ملتا جو ہندوستان کے مختلف مقامات میں سکونت پذیر ہوگئے تھے وجہ یہ کہ درحقیقت وہی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں تھیں جنہوں نے ان ملکوں میں آکر اپنے باپ دادے کا مذہب بھی ترک کردیا تھا اور اکثر ان کے بُدھ مذہب میں داخل ہوگئے تھے۔ اور پھر رفتہ رفتہ بت پرستی تک نوبت پہنچی تھی۔ چنانچہ ڈاکٹر برنیر نے بھی اپنی کتاب وقائع سیر و سیاحت میں کئی اہل علم کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ کشمیر کے باشندے دراصل یہودی ہیں کہ جو تفرقہ شاہ اسور کے ایام میں اس ملک میں آگئے تھے۔خبہر حال حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے یہ ضروری تھا کہ ان گمشدہ بھیڑوں کو تلاش کرتے جو اس ملک ہند میں آکر دوسری قوموں میں مخلوط ہوگئی تھیں۔ چنانچہ آگے چل کر ہم اس بات کا ثبوت دیں گے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فی الواقع اس ملک ہند میں آئے اور پھر منزل بمنزل کشمیر میں پہنچے۔ اور اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کا بدھ مذہب میں پتہ لگا لیا۔ اور انہوں نے آخر اس کو اسی طرح قبول کیا جیسا کہ یونس کی قوم نے یونس کو قبول کر لیا تھا۔اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ مسیح انجیل میں اپنی زبان سے اس بات کو بیان کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔ ماسوا اس کے صلیب کی موت سے نجات پانا اس کو اس لئے بھی ضروری تھا کہ مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ جو کوئی کاٹھ پر لٹکایا گیا سو *** ہے۔ اور *** کا ایک ایسا مفہوم ہے کہ جو عیسیٰ مسیح جیسے برگزیدہ پر ایک دم کے لئے بھی تجویز کرنا سخت ظلم اور ناانصافی ہے۔ کیونکہ باتفاق تمام اہل زبان *** کا مفہوم دل سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اس حالت میں کسی کو ملعون کہا جائے گا اور ان کے سوا اور یہودی بھی بابلی حوادث سے مشرقی بلاد کی طرف جلا وطن ہوئے۔ منہ دیکھو جلد دوم واقعات سیر و سیاحت ڈاکٹر برنیر فرانسیسی۔