جبؔ کہ حقیقت میں اس کا دل خدا سے برگشتہ ہو کر سیاہ ہوجائے اور خدا کی رحمت سے بے نصیب اور خدا کی محبت سے بے بہرہ اور خدا کی معرفت سے بکلی تہی دست اور خالی اور شیطان کی طرح اندھا اور بے بہرہ ہوکر گمراہی کے زہر سے بھرا ہوا ہو اور خدا کی محبت اور معرفت کا نور ایک ذرہ اس میں باقی نہ رہے اور تمام تعلق مہر و وفا کا ٹوٹ جائے اور اس میں اور خدا میں باہم بغض اور نفرت اور کراہت اور عداوت پیدا ہوجائے۔ یہاں تک کہ خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہوجائے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہوجائے۔ غرض ہر ایک صفت میں شیطان کا وارث ہوجائے اور اسی وجہ سے لعین شیطان کا نام ہے۔*اب ظاہر ہے کہ ملعون کا مفہوم ایسا پلید اور ناپاک ہے کہ کسی طرح کسی را ستباز پر جوکہ اپنے دل میں خدا کی محبت رکھتا ہے صادق نہیں آسکتا۔ افسوس کہ عیسائیوں نے اس اعتقاد کے ایجاد کرنے کے وقت *** کے مفہوم پر غور نہیں کی ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ لوگ ایسا خراب لفظ مسیح جیسے را ستباز کی نسبت استعمال کرسکتے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسیح پر کبھی ایسا زمانہ آیا تھا کہ اس کا دل درحقیقت خدا سے برگشتہ اور خدا کا منکر اور خدا سے بیزار اور خدا کا دشمن ہوگیا تھا؟ کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ مسیح کے دل نے کبھی یہ محسوس کیا تھا کہ وہ اب خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن اور کفر اور انکار کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے؟ پھر اگر مسیح کے دل پر کبھی ایسی حالت نہیں آئی بلکہ وہ ہمیشہ محبت اور معرفت کے نور سے بھرا رہا تو اے دانشمندو! یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیونکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسیح کے دل پر نہ ایک *** بلکہ ہزاروں خدا کی لعنتیں اپنی کیفیت کے ساتھ نازل ہوئی تھیں۔ معاذ اللہ ہرگز نہیں۔ تو پھر ہم کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ *** ہوا؟ نہایت افسوس ہے کہ انسان جب ایک بات منہ سے نکال لیتا ہے یا ایک عقیدہ پر قائم ہوجاتا ہے تو پھر گو کیسی ہی خرابی اس عقیدہ کی کھل جائے کسی طرح اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ نجات حاصل کرنے کی تمنا اگر کسی حقیقتِ حقہ پر بنیاد رکھتی ہو تو قابل تعریف امر ہے لیکن یہ کیسی نجات کی خواہش ہے جس سے ایک سچائی کا خون کیا جاتا اور دیکھو کتب لغت۔ لسان العرب، صحاح جوہری، قاموس، محیط، تاج العروس وغیرہ۔ منہ