پہلا باب
جاننا چاہئیے کہ اگرچہ عیسائیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودا اسکریوطی کی شرارت سے گرفتار ہوکر مصلوب ہوگئے اور پھر زندہ ہوکر آسمان پر چلے گئے۔ لیکن انجیل شریف پر غور کرنے سے یہ اعتقاد سراسر باطل ثابت ہوتا ہے۔ متی باب۱۲ آیت ۴۰ میں لکھا ہے کہ جیسا کہ یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔ اب ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا۔ اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تھا تو صرف بیہوشی اور غشی تھی۔ اور خدا کی پاک کتابیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ یونس خدا کے فضل سے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور زندہ نکلا۔ اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا۔ پھر اگر حضرت مسیح علیہ السلام مچھلی ۱ کے پیٹ میں مر گئے تھے تو مردہ کو زندہ سے کیا مشابہت اور زندہ کو مردہ سے کیا مناسبت؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح ایک نبی صادق تھا اور جانتا تھا کہ وہ خدا جس کا وہ پیارا تھا *** موت سے اس کو بچائے گا۔ اس لئے اس نے خدا سے الہام پاکر پیشگوئی کے طور پر یہ مثال بیان کی تھی اور اس مثال میں جتلا دیا تھا کہ وہ صلیب پر نہ مرے گا اور نہ *** کی لکڑی پر اس کی جان نکلے گی بلکہ یونس نبی کی طرح صرف غشی کی حالت ہوگی۔ اور مسیح نے اس مثال میں یہ بھی اشارہ کیا تھا کہ وہ زمین کے پیٹ سے نکل کر پھر قوم سے ملے گا
کاتب کی غلطی سے پہلے ایڈیشن میں ’’مچھلی ‘‘ لکھا گیا۔ اصل میں ’’زمین‘‘ ہے۔ شمس