اور دنیا میں کوئی عیسائی نہیں کہ جو آسمانی نشان میرے مقابل پر دکھلا سکے۔ اور دُوسرے خدا کے فضل اور کرم اور رحم نے میرے پر ثابت کردیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صلیب پر فوت ہوئے نہ آسمان پر چڑھے بلکہ صلیب سے نجات پاکر کشمیر کے ملک میں آئے اور اسی جگہ وفات پائی۔ یہ باتیں صرف قصہ کہانیوں کے رنگ میں نہیں ہیں بلکہ بہت سے کامل ثبوتوں کے ساتھ ثابت ہوگئی ہیں جن کو میں نے اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں مفصل بیان کردیا ہے۔ اس لئے میں زور سے اور دعوے سے کہتا ہوں کہ جس کسر صلیب کا بخاری میں وعدہ تھا اس کا پورا سامان مجھے عطا کیا گیا ہے او رہر ایک عقل سلیم گواہی دے گی کہ بجز اس صورت کے اور کوئی مؤثر اور معقول صورت کسر صلیب کی نہیں۔ اب میں سوال کرتا ہوں کہ اگرمیں جھوٹا ہوں اور مسیح موعود نہیں ہوں تو ہمارے مخالف علماء اسلام بتلاویں کہ جب اُن کا مسیح موعود دنیا میں ظاہر ہوگا تووہ کسرصلیب کے لئے کیا کارروائی کرے گا اور ہمیں معقول طورپر سمجھائیں کہ کیا وہ ایسی کارروائی ہوگی جس سے چالیس کروڑ عیسائی اپنے دین کا باطل ہونا دِلی یقین سے سمجھ سکے۔ اِس سوال کے جواب میں ہمارے گرفتار تقلید مولوی بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ جب ان کا مسیح آئے گا تو لوگوں کو تلوار سے مسلمان کرے گا او رایسا سخت دل ہوگا کہ جزیہ بھی قبول نہیں کرے گا۔ اس کی تقسیم اوقات یہ ہوگی کہ کچھ حصہ دِن کا تو لوگوں کو قتل کرنے میں بسر کرے گا اور کچھ حصہ دن کاجنگلوں میں جاکر سؤروں کو مارتا رہے گا۔ اب ہر ایک عقلمند موازنہ کرسکتا ہے کہ کیا وہ امور جو اشاعتِ اسلاؔ م اور کسرِ صلیب کے لئے ہم پر کھولے گئے ہیں وہ دلوں کو کھینچنے والے اور مؤثر معلوم ہوتے ہیں یا ہمارے مسلمان مخالفوں کے فرضی مسیح موعود کا یہ طریق کہ گویا وہ آتے ہی بے خبر اور غافل لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دے گا۔ یاد رہے کہ عیسائی مذہب اِس قدر دنیا میں پھیل گیا ہے کہ صرف آسمانی نشان بھی اس کے زیر کرنے کے لئے کافی نہیں ہوسکتے کیونکہ مذہب کو چھوڑنا بڑا مشکل امر ہے۔ لیکن یہ صورت کہ ایک طرف تو آسمانی نشان دکھلائے جائیں اور