اپنے اندر رکھتے ہیں*اور آیت 3 ۱؂سے بے خبر ہیں۔ دوسری صورت صلیبی مذہب پر غلبہ پانے کی یہ ہے کہ معمولی مباحثات سے جو ہمیشہ اہلِ مذہب کیا کرتے ہیں۔ اس مذہب کو مغلوب کیا جائے مگر یہ صورت بھی ہرگز کامل کامیابی کا ذریعہ نہیں ہوسکتی کیونکہ اکثر مباحثات کا میدان وسیع ہوتا ہے اور دلائلِ عقلیہ اکثر نظری ہوتے ہیں اور ہر ایک نادان اور موٹی عقل والے کا کام نہیں کہ عقلی اور نقلی دلائل کو سمجھ سکے۔ اسی لئے بت پرستوں کی قوم باوجود قابل شرم عقیدوں کے اب تک جابجا دنیا میں پائی جاتی ہے۔ تیسری صورت صلیبی مذہب پر غلبہ پانے کی یہ ہے کہ آسمانی نشانوں سے اسلام کی برکت اور عزت ظاہر کی جائے اور زمین کے واقعات سے امور محسوسہ بدیہیہ کی طرح یہ ثابت کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر گئے بلکہ اپنی طبعی موت سے مرگئے۔ اور یہ تیسری صورت ایسی ہے کہ ایک متعصب عیسائی بھی اقرارکرسکتا ہے کہ اگر یہ بات بپایہء ثبوت پہنچ جائے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے او ر نہ آسمان پر گئے تو پھر عیسائی مذہب باطل ہے اورکفارہ اور تثلیث سب باطل اور پھر اس کے ساتھ جب آسمانی نشان بھی اسلام کی تائید میں دکھلائے جائیں تو گویا اسلام میں داخل ہونے کے لئے تمام زمین کے عیسائیوں پر رحمت کا دروازہ کھول دیا جائے گا۔ سو یہی تیسری صورت ہے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ خدا تعالیٰ نے ایک طرف تو مجھے آسمانی نشان عطا فرمائے ہیں اورکوئی نہیں کہ ان میں میرا مقابلہ کرسکے۔ * تمام سچے مسلمان جو دُنیا میں گذرے کبھی ان کا یہ عقیدہ نہیں ہوا کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہیئے بلکہ ہمیشہ اسلام اپنی ذاتی خوبیوں کی و جہ سے دُنیا میں پھیلا ہے ۔ پس جو لوگ مسلمان کہلاکر صرف یہی بات جانتے ہیں کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہیئے وہ اسلام کی ذاتی خوبیوں کے معترف نہیں ہیں اور ان کی کارروائی درندوں کی کارروائی سے مشابہ ہے۔ منہ