کا سرالصّلیب ہوا *اوریوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جبکہ چودھویں صدی کے مجدّد کی یہ خدمت ہوئی کہ وہ صلیب کو شکست دے۔ تو اس سے یہ فیصلہ ہوا کہ چودھویں صدی کا مجدّد مسیح موعود ہونا چاہئے۔ کیونکہ یہی منصب مسیح موعود کا ہے۔ اِس لئے چودھویں صدی کا مجدد حق رکھتا ہے کہ اِس کو مسیح موعود کہا جائے۔ کیونکہ وہ اِس زمانہ کا مجدد ہے اور اِس زمانہ میں مجددد کی خاص خدمت کسر شوکت صلیب ہے اور خدا نے میرے وقت میں آسمان سے کسر شوکت عقائد صلیبیّہکے لئے ایسے اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ ہر ایک عقلمند اُن اسباب پر نظر غور ڈال کر سمجھ سکتا ہے جو صلیبی مذہب کا صفحہ دنیا سے معدوم ہونا جس کا حدیثوں میں ذکر ہے ۔ بجز اِس صورت کے کسی طرح ممکن نہیں کیونکہ عیسائی مذہب کو گرانے کے لئے جو صورتیں ذہن میں آسکتی ہیں وہ صرف تین ہیں (۱) اوّل یہ کہ تلوار سے اور لڑائیوں سے اور جبرؔ سے عیسائیوں کو مسلمان کیا جائے جیسا کہ عا م مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ اُن کا فرضی مسیح موعود اور مہدی معہود یہی کام دنیا میں آکر کرے گا اور اس میں صرف اِسی قدر لیاقت ہوگی کہ خونریزی اور جبر سے لوگوں کو مسلمان کرنا چاہے گالیکن جس قدر اس کارروائی میں فساد ہیں حاجتِ بیان نہیں۔ ایک شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ دلیل کافی ہوسکتی ہے کہ وہ لوگوں کو جبر سے اپنے دین میں داخل کرنا چاہے۔ لہٰذا یہ طریق اشاعتِ دین کا ہرگز درست نہیں ہے اور اِس طریق کے اُمیدوار اور اس کے انتظار کرنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو درندوں کی صفات * صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے جس میں مسیح موعود کا نام کاسرالصّلیب رکھا ہے اور درحقیقت سچے مسیح موعود کی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی علامت ٹھہرائی ہے کہ ا س کے ہاتھ پر کسر صلیب ہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح موعود ایسے زمانہ میں آئے گا جبکہ ہرطرف سے ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے کہ جن کی پرزور تاثیروں سے صلیبی مذہب عقلمندوں کے دلوں میں سے گرتا جائے گا۔ چنانچہ یہ وہی زمانہ ہے مگر افسوس کہ ہمارے مخالف مولویوں نے اس جگہ بھی کسر صلیب سے جہاد مراد لے لیا ہے۔ منہ