محفوظ رکھیں جن کی راہ سے بدی داخل ہوسکتی ہے۔ سوراخ کے لفظ میں جو آیت ممدوح میں مذکور ہے آلات شہوت اور کان اور ناک اور منہ سب داخل ہیں۔ اب دیکھو کہ یہ تمام تعلیم کس شان اور پایہ کی ہے جو کسی پہلو پر نامعقول طور پر افراط یا تفریط سے زور نہیں ڈالا گیا اور حکیمانہ اعتدال سے کام لیا گیا ہے۔ اور اس آیت کا پڑھنے والا فی الفور معلوم کرلے گا کہ اِس حکم سے جو کھلے کھلے نظر ڈالنے کی عادت نہ ڈالو یہ مطلب ہے کہ تا لوگ کسی وقت فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اور دونوں طرف مرد اورعورت میں سے کوئی فریق ٹھوکر نہ کھاوے لیکن انجیل میں جو بے قیدی اور کھلی آزادی دی گئی اور صرف انسان کی مخفی نیت پر مدار رکھا گیا ہے اِس تعلیم کا نقص اور خامی ایسا امر نہیں ہے کہ اس کی تصریح کی کچھ ضرورت ہو۔ اب ہم پھر اپنے اصل مقصد کی طرف عود کرکے تمام مسلمانوں اور بالخصوص علماء اسلام اور فقراء اسلام کی نسبت تبلیغ کا حق پورا کرتے ہیں اور اُن کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ مجدد جو اِس چودھویں صدی کے سر پر بموجب حدیث نبوی کے آنا چاہیئے تھا۔ وہ یہی راقم ہے۔ یہ بات جلد عقلمند اور منصف مزاج کو سمجھ آسکتی ہے کہ ہرایک مجدد اُن مفاسد کے دُور کرنے کے لئے مبعوث ہوتا ہے جو زمین پر سب سے زیادہ خطرناک اور سب سے زیادہ موجب ہلاک اور نیز سب سے زیادہ کثرت میں ہوتے ہیں۔ اور اُنہی خدمات کے مناسب حال اس مجدّد کا نام آسمان پر ہوتاہے۔ اور جب کہ یہ بات واقعی اور صحیح ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اِس پُرآشوب زمانہ میں جب کہ لوگ چاروں طرف عیسائیت کی پُرزہر تعلیم سے ہلاک ہوتے جاتے ہیں۔ بڑا کام مجدد کا یہ ہونا چاہیئے کہ اہلِ اسلام کی ذُریت کو اِس زہر سے بچاوے۔ اور صلیبی فتنوں پر اسلام کو فتح بخشے۔ اور جب کہ اِس صدی کے مجدّد کا یہ کام ہوا تو بِلا شبہ آسمان پر اُس کا نام