ایسی تعلیم ہے کہ جو ایک بدنیت انسان کو بدنظری کا موقع دیتی ہے اور ایک نیک انسان کو امتحان میں ڈالتی ہے کیونکہ اس فتویٰ سے بدنظری کی عادت والے کو پناہ ملتی ہے اور ایک پرہیز گار کے دل کو بدی کے سرچشمہ سے قریب ہونا پڑتا ہے وجہ یہ کہ ممکن ہے کہ ایک سادہ دل انسان ایک شخص کے حسن و جمال کو دیکھ کر اُس پر شیدا اور فریفتہ ہو جائے اور پھر ہردم ناپاک خیال دل میں پیدا ہونے لگیں۔ پس اس تعلیم کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کہ ایک عمارت مثلاً دریا کے اُس رخ کی طرف بنائی جائے جس طرف وہ دریا بڑے زور اور سیلاب کے ساتھ قدم بڑھا رہا ہے پس ایسی عمارت اگر دن کو نہیں گرے گی تو رات کو ضرور گر جائے گی۔ اِسی طرح اگر کوئی عیسائی اِس تعلیم سے عقل اور حیا اور انسانیت کے نور کے ہوتے ہوئے جو دن سے مشابہت رکھتا ہے بدی میں نہیں پڑے گا لیکن جوانی کی حالت اور جذباتِ نفس کے وقت میں خصوصاً جبکہ شراب کے پینے کی حالت میں شہوانی تاریکیوں کے ہجوم سے رات پڑ جائے ایسی حالت میں اس بے قیدی کی نظر کے بد نتائج سے ہرگز نہیں بچ سکے گا۔ لیکن اِس تعلیم کے مقابل پر وہ تعلیم جو قرآن شریف نے دی ہے وہ اِس قدر اعلیٰ ہے جو دِل بول اُٹھتا ہے کہؔ ہاںیہ خدا کا کلام ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں یہ آیت ہے 333 ۱ یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم اور محل شہوت کے دیکھنے سے اپنی آنکھیں اس قدر بند رکھیں کہ پوری صفائی سے چہرہ نظر نہ آسکے اور نہ چہرہ پرکشادہ اور بے روک نظر پڑسکے۔ اور اِس بات کے پابند رہیں کہ ہرگز آنکھ کو پورے طور پر کھول کر نہ دیکھیں نہ شہوت کی نظر سے اور نہ بغیر شہوت سے کیونکہ ایساکرنا آخر ٹھوکر کاباعث ہے یعنی بے قیدی کی نظر سے نہایت پاک حالت محفوظ نہیں رہ سکتی اور آخر ابتلا پیش آتا ہے اور دِل پاک نہیں ہوسکتا جب تک آنکھ پاک نہ ہو اور وہ مقام ازکیٰ جس پر طالب حق کے لئے قدم مارنا مناسب ہے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اور اِس آیت میں یہ بھی تعلیم ہے کہ بدن کے ان تمام سوراخوں کو