بجز قوتِ حلم اورعفو کے فنا کر دینا چاہئے۔ پس اِس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ یا تو خدا تعالیٰ کی تعلیم غلط ہے اور یا اُس نے اپنے فعل میں ہی غلطی کھائی اور اپنے پیدا کرنے کے کام کو ہشیاری اورآخر بینی سے نہیں کیا اور دونوں صورتوں میں ایسامذہب صحیح نہیں ٹھہر سکتا جس کی تعلیم صحیح اُصولوں پر مبنی نہ ہو یاجس کا خدا اپنے فعل میں غلط کار ہو اِس کے مقابل پر جب ہم قرآن شریف کی تعلیم دیکھتے ہیں تو اس کے کمال اور جمال پر نظر کرکے بے اختیار رقّت اور وجد پیدا ہوتا ہے۔ دیکھو کیا عمدہ یہ تعلیم ہے جس کا اس آیت میں بیان ہے۔3 3 ۱؂ یعنی قانون انصاف کے رو سے ہر ایک بدی کی سزا اُسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے گنہگار کو معاف کرے بشرطیکہ اُس معاف کرنے میں شخص مجرم کی اصلاح ہو نہ یہ کہ معاف کرنے سے اور بھی زیادہ دلیر اور بیباک ہو جائے تو ایسا شخص خداتعالیٰ سے بڑا اجر پائے گا۔ اب ایسی کامل تعلیم انجیل کے اوراق میں سے کہاں تلاش کریں اور کس سے پوچھیں اور کون ہے جو ہمیں بتاوے اگر حلم اور عفو اورترک مقابلہ یونہی ہرجگہ بغیر کسی محل اور موقع کے قابلِ تعریف ہے تو ایک دیّوث جس کی عورت پر ناجائز حملہ کیاجائے اوروہ درگذر کرکے اس حملہ کو ہونے دے مدح و ثنا کے لائق سمجھا جائے گااور ایک جَین مَت والا جن کے مذہب میں کسی جاندار کو مارنا روا نہیں اپنے اس خُلق سے کہ وہ جُوں اور پِسّو اور سانپ اور بِچھو کو بھی نہیں مارتا اعلیٰ درجہ کی اخلاقی حالت پر متصور ہوگا۔ پس معلوم ہوا کہ ایسی تعلیم جو شتر بے مہار کی طرح کسی خط مستقیم پر نہیں چلتی اور نہ محل اور موقع کی پرواہ رکھتی ہے کمالاتِ انسانی کے لئے سخت مضر او رزہر قاتل ہے ۔ ہاں ممکن ہے کہ حضرت مسیح نے ایسی تعلیم کوکسی قانون مختصّ الوقت یا مختصّ القوم کی طرح مصلحتاً استعمال کیا ہو مگر تعلیم وہی صحیح اور کامل ہے جو آیت قرآنی مندرجہ بالامیں بیان فرمائی گئی ہے۔ ایسا ہی انجیل کی یہ تعلیم کہ بد نظری سے کسی عورت کو مت دیکھو جس کاماحصل یہ ہے کہ پاک نظر سے بیشک دیکھ لیا کرو۔ یہ ایک