قرآؔ ن شریف اور حدیث سے ہم کو ملی ہیں۔ (۳) سوم وہ شہادتیں جو طبابت کی کتابوں سے ہم کو ملی ہیں۔ (۴) چہارم وہ شہادتیں جو تاریخی کتابوں سے ہم کو ملی ہیں۔ (۵) پنجم وہ شہادتیں جو زبانی تواترات سے ہم کو ملی ہیں۔ (۶) ششم وہ شہادتیں جو قرائن متفرقہ سے ہم کو ملی ہیں۔ (۷) ہفتم وہ شہادتیں جومعقولی دلائل سے ہم کو ملی ہیں۔ (۸) ہشتم وہ شہادتیں جو خدا کے تازہ الہام سے ہم کو ملی ہیں۔ یہ آٹھ ۸ باب ہیں۔ (۹) نویں باب میں برعایت اختصار عیسائی مذہب اور اسلام کا تعلیم کی رو سے مقابلہ کر کے دکھلایا جائے گا اور اسلامی مذہب کے سچائی کے دلائل بیان کئے جائیں گے۔ (۱۰) دسویں باب میں کچھ زیادہ تفصیل ان امور کی کی جائے گی جن کے لئے خدانے مجھے مامور کیا ہے۔ اور یہ بیان ہوگا کہ میرے مسیح موعود اور منجانب اللہ ہونے کا ثبوت کیا ہے۔ اور اخیر پر ایک خاتمہ کتاب کا ہوگا جس میں بعض ضروری ہدایتیں درج ہوں گی۔ ناظرین سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو غور سے پڑھیں اور یونہی بدظنی سے ان سچائیوں کو ہاتھ سے پھینک نہ دیں اور یاد رکھیں کہ ہماری یہ تحقیق سرسری نہیں ہے بلکہ یہ ثبوت نہایت تحقیق اور تفتیش سے بہم پہنچایا گیا ہے۔ اور ہم خدائے تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اس کام میں ہماری مدد کرے اور اپنے خاص الہام اور القا سے سچائی کی پوری روشنی ہمیں عطا فرماوے کہ ہر ایک صحیح علم اور صاف معرفت اسی سے اترتی اور اسی کی توفیق سے دلوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ آمین ثم آمین۔ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں ۲۵ ؍ اپریل ۱۸۹۹ ؁ء