مسلمان ہونے والے کو کون روکتا ہے ا ور مساجد میں نماز پڑھنے اور بانگ دینے سے کون منع کرتا ہے۔ پس اگر ایسے امن کے وقت میں ایسا مسیح ظاہر ہوکہ وہ امن کا قدر نہیں کرتا۔ بلکہ خواہ نخواہ مذہب کے لئے تلوار سے لوگوں کو قتل کرنا چاہتا ہے تو ؔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ بلاشبہ ایساشخص جھوٹا کذّاب مفتری اور ہرگز سچا مسیح نہیں ہے۔ مجھے تو خواہ قبول کرو یا نہ کرو مگر میں تم پررحم کرکے تمہیں سیدھی راہ بتلاتا ہوں کہ ایسے اعتقاد میں سخت غلطی پر ہو۔ لاٹھی اور تلوار سے ہرگز ہرگز دین دلوں میں داخل نہیں ہوسکتا اور آپ لوگوں کے پاس ان بیہودہ خیالات پر دلیل بھی کوئی نہیں۔ صحیح بخاری میں مسیح موعود کی شان میں صاف حدیث موجود ہے کہ یَضَعُ الْحَرب یعنی مسیح موعود لڑائی نہیں کرے گا تو پھر کیسے تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو آپ لوگ اپنے مُنہ سے کہتے ہیں کہ صحیح بخاری قرآن شریف کے بعد اَصَحُّ الْکُتُب ہے اور دوسری طرف صحیح بخاری کے مقابل پر ایسی حدیثوں پر عقیدہ کر بیٹھتے ہیں کہ جو صریح بخاری کی حدیث کے منافی پڑی ہیں۔ چاہیئے تھا کہ اگر کروڑ ایسی کتاب ہوتی تب بھی اس کی پرواہ نہ کرتے کیونکہ ان کا مضمون نہ صرف صحیح بخاری کی حدیث کے منافی بلکہ قرآن شریف سے بھی صریح مخالف ہے۔ لیکن ایک پرانے عقیدہ کے ہونے کی وجہ سے آپ لوگ غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اور دوسرے ایک یہ بھی سبب ہے کہ آپ لوگوں کے زعم میں آپ کا فرضی مسیح اور مہدی تو ظاہر ہوکر اور تمام کافروں کو قتل کرکے ان کا مال آپ لوگوں کو دیدے گا اور تمام نفسانی خواہشیں پوری کردے گا جیسا کہ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ لیکن میں تو اس لئے نہیں آیا کہ آپ لوگوں کو دنیا کے گندے مال میں مبتلا کروں اور آپ پر تمام ہوا و ہوس کے پورے کرنے کے دروازے کھول دوں بلکہ میں اس لئے آیا ہوں کہ موجودہ دنیا کے حظ سے بھی کچھ کم کرکے خدا تعالیٰ کی طرف کھینچوں۔ پس حقیقت میں میرے آنے سے آپ لوگوں کا بہت ہی حرج ہوا ہے ۔ گو یا تیرہ سو برس کے مال و متاع کی آرزوئیں خاک میں مل گئیں یا یوں کہو کہ کروڑہا روپیہ کا نقصان ہو گیا۔