اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے یعنی تیرہ ۱۳۰۰ سو کا عدد جو اِس نام سے نکلتا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا جس کا نام تیرہ سوکا عدد پورا کرتا ہے۔ مگر آپ لوگوں کی اب تک آنکھ نہیں کھلی۔ آپ لوگ اِسلام کی ہمدردی کے یہی معنے سمجھتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو ایسے شخص کو جس کے منہ سے اسلام کی مخالفت اور توہین کا کلمہ نکلے سزادی جائے یا دلائی جائے جیسا کہ اُمہات المؤمنین کے شائع ہونے کے وقت میں بھی یہی کارروائی کی گئی اور گورنمنٹ کو جتلایا گیا کہ ہم اِس کتاب کاجواب لکھنا نہیں چاہتے صرف سزا دلانا چاہتے ہیں۔ مگر چونکہ ایسی درخواست اس صورت میں قابلِ توجہ ہوسکتی تھی کہ کتاب مذکور قانون سڈیشن کے نافذ ہونے کے بعد تالیف ہوتی اس لئے وہ درخواست نامنظور ہوئی۔ اور یہ تو خود آپ لوگ اشارۃًاقرار کرچکے کہ ہم ردّ لکھنا نہیں چاہتے۔ تو گویا نہ اِدھر کے رہے اور نہ اُدھر کے رہے۔ غرض یہ عادت جوش اور اشتعال اور انتقام طلبی کی اچھی نہیں۔ اس سے اِسلام بدنام ہو رہا ہے۔ یاد رکھو کہ اب جو شخص مسیح موعود اور مہدی معہود کے نام پر آوے اور لیاقت صرف اتنی ہو کہ لوگوں کو تلوار کا خوف دِکھلاکر مسلمان کرناچاہے تو بلاشبہ وہ جھوٹا ہوگا نہ صادق۔ جن کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ سچائی اور آسمانی نشانوں کی تلوار دیتا ہے اُن کو اِس لوہے کی تلوار کی کیا ضرورت ہے ۔ یہ جہالت اور سخت نادانی ہے کہ اس زمانہ کے نیم مُلّا فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبراً مسلمان کرنے کے لئے تلوار اُٹھائی تھی اور انہی شبہات میں ناسمجھ پادری گرفتار ہیں۔ مگر اس سے زیادہ کوئی جھوٹی بات نہیں ہوگی کہ یہ جبر اور تعدّی کا الزام اُس دین پر لگایا جائے جس کی پہلی ہدایت یہی ہے کہ3 ۱ یعنی دین میں جبر نہیں چاہیئے بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اس لئے تھیں کہ کفار کے حملہ سے اپنے تئیں بچایا جائے اور یا اس لئے تھیں کہ امن قائم کیا جائے۔ اور جو لوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایاجائے ۔ مگر اب کون مخالفوں میں سے دین کے لئے تلوار اُٹھاتا ہے اور