تو پھرمیں آپ لوگوں کی نظر میں اچھا کیونکر ٹھہروں۔ لیکن خدا سے ڈرو۔ اور رُوح اورراستی کی تلاش کرو کیونکہ اگر تمہیں دنیا کی بادشاہت بھی مل جائے تو چونکہ وہ فانی ہے او ر خدا تعالیٰ سے دور ڈالتی ہے اِس لئے ہیچ ہے۔ جسمانی خیالات چھوڑو اور اپنے اندر روحانی خیالات پیدا کرو۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ صلیبی مذہب کو تلوار سے شکست آئے گی۔ بلکہ اِس حرکت بیجا سے اسلام کی سچائی پر ہزارہا اعتراض پیدا ہوں گے۔ یہ کیا سفلہ پن اور کمینگی ہے کہ دشمن کے اعتراض کا تلوار سے جواب دیا جائے۔ ایسا مذہب ہرگز ممکن نہیں کہ سچا ہو۔ دیکھو ہم حضرات پادری صاحبوں کو نہ تلوار سے بلکہ ملائم الفاظ سے بار بار اس طرف بلاتے ہیں کہ آؤ ہم سے مقابلہ کرو کہ دونوں شخص یعنی حضرت مسیح اور حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے روحانی برکات اور افاضات کے رو سے زندہ کون ہے۔ اور جس طرح خدا کے نبی پاک نے قرآن شریف میں کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو کہ مسیح خدا کا بیٹاہے تو میں سب سے پہلے اس کی پرستش کروں گا۔ ایسا ہی میں کہتا ہوں کہ اے یورپ اور امریکہ کے پادریو! کیوں خواہ نخواہ شور ڈال رکھا ہے ۔ تم جانتے ہو کہ میں ایک انسان ہوں جو کروڑہا انسانوں میں مشہور ہوں۔ آؤ میرے ساتھ مقابلہ کرو۔ مجھ میں اور تم میں ایک برس کی مہلت ہو۔ اگر اس مدت میں خدا کے نشان اور خدا کی قدرت نما پیشگوئیاں تمہارے ہاتھ سے ظاہر ہوئیں اور میں تم سے کمتر رہا تو میں مان لوں گا کہ مسیح ابن مریم خدا ہے لیکن اگر اُس سچے خدا نے جس کو میں جانتا ہوں اور آپ لوگ نہیں جانتے مجھے غالب کیا اور آپ لوگوں کا مذہب آسمانی نشانوں سے محروم ثابت ہوا تو تم پر لازم ہوگا کہ اس دین کو قبول کرو۔ اب اے مسلمانوں اگر تمہیں کچھ غیرت ہے اور اگر کچھ حیا ہو تو آئندہ گالیاں دینا اور کافر کافر کہنا موقوف کرکے یہ تماشا دیکھو۔ پادری صاؔ حبوں کے پاس جاؤ اور یہ میرا اشتہار اُن کو دکھلاؤ اور اُن کو میرے ساتھ آویزاں کردو اور پھر دیکھو کہ غالب کون ہوتا ہے۔ دیانت اور امانت کی راہ کو اختیار کرو کہ ناپاک ہے وہ راہ جو خیانت سے بھری ہے اور