قرآن شریف کی یہ تعلیم نہیں ہے اور نہ کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ کوئی خونی مہدی یا خونی مسیح آئے گا جو جبراً مسلمان کرے گا اور انسانوں کو قتل کرنا اس کا کام ہوگا۔ جس مہدی یا مسیح نے آنا تھا وہ آچکا ۔ کیا ضرور نہ تھا کہ وہ مسیح غلبہ صلیب کےؔ وقت آتا؟ کیا سب سے اوّل درجہ کی علامت مسیح موعود کی یہ نہیں ہے کہ وہ صلیب کے غلبہ میں آئے گا۔ اب خود دیکھ لو کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں صلیبی مذہب کس قدر ترقی کرتا گیا اور کس قدر نہایت سُرعت کے ساتھ اس کا قدم دن بدن آگے ہے۔ ایسی قوم ملک ہند میں کونسی ہے جس میں سے ایک جماعت اس مذہب میں داخل نہیں کی گئی۔ کروڑہا کتابیں اور رسالے دینِ اسلام کے ردّ میں شائع ہوچکیں یہاں تک کہ اُمہاتُ المومنین جیسی گندی کتاب بھی تمہاری تنبیہ کے لئے عیسائیوں کے ہاتھ سے شائع ہوئی۔ بیچاری چودھویں صدی میں سے بھی جس پر ایسی ضرورت کے وقت میں مجدد نے آنا تھا سولہ۱۶ برس گذر گئے لیکن آپ لوگوں نے اب تک مسیح موعود کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ زمین نے صلیبی مذہب کے غلبہ کی وجہ سے مسیح موعود کی ضرورت پر گواہی دی اور آسمان نے خسوف کسوف کو رمضان میں عین مقررہ تاریخوں پر دکھلاکر اُس مہدی معہود کے ظاہر ہوجانے کی شہادت دی۔ اور جیسا کہ مسیح کے وقت کی نشانی لکھی تھی اونٹوں کی سواری اور بار برداری میں بھی ریل گاڑیوں نے فرق ڈال دیا اور جیسا کہ علامات میں لکھاتھا ملک میں طاعون بھی پھوٹی حج بھی روکا گیا اور اہلِ کشف نے بھی اسی زمانہ کی خبردی اور نجومی بھی بول اُٹھے کہ مسیح موعود کا یہی وقت ہے*اور جس نے دعویٰ کیا اُس کا نام بھی یعنی غلام احمد قادیانی * نوٹ ۔ اخبار ڈان میں جس سے پرچہ ٹریبیون مورخہ ۸؍ جولائی ۱۸۹۹ ؁ء نے نقل کیا ہے ایک فاضل منجّم کی یہ پیشگوئی شائع کی گئی ہے کہ ۱۹۰۰ ؁ عیسوی کے ساتھ ایک نیا دور شروع ہوتاہے اور یہ دونوں سن یعنی ۱۸۹۰ ؁ء تا ۱۹۰۰ ؁ء ایک عظیم الشان دورہ ختم کرتے ہیں جس کے خاتمہ پر سورج منطقۃ البروج کے ایک نئے بُرج میں داخل ہوتا ہے اور اس ہیئت کی تاثیر سے یعنی جبکہ سورج ایک نئے برج میں داخل ہو جیسا کہ قدیم سے ہوتا رہا ہے ۱۹۰۰ ؁ء میں زمین پر مسیح کلمۃ اللہ کا ایک نیا اوتار اور خدا کا ایک نیا مظہر ظہور کرے گا اور وہ مسیح کا مثیل ہوگا او ر دنیا کو بیدار کرکے ایک اعلیٰ زندگی بخشے گا۔ دیکھو ٹریبیون ۸؍ جولائی ۱۸۹۹ ؁ء مطبوعہ لاہور ۔ منہ