جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دِلو ں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں پھر کیونکر ممکن تھا کہ میں اس سلطنت کا بدخواہ ہوتا یاکوئی ناجائز باغیانہ منصوبے اپنی جماعت میں پھیلاتا جبکہ میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتارہا۔ اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنادیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں ۔ پھر میں خود اپنے آرام کادشمن بنوں۔ اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہوں میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم اِس بات کے گواہ ہیں کہ اِسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہو دل میں مجھے کچھ کہو۔ گالیاں نکالو یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دِل میں بغاوت کے خیالات رکھنایا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہوسکے سخت بدذاتی اور خداتعالیٰ کا گناہ ہے۔ بہتیرے ایسے مسلمان ہیں جن کے دل کبھی صاف نہیں ہوں گے۔ جب تک اُن کا یہ اعتقاد نہ ہو کہ خونی مہدی اور خونی مسیح کی حدیثیں تمام افسانہ اور کہانیاں ہیں۔ اے مسلمانوں اپنے دین کی ہمدردی تو اختیارکرو مگر سچی ہمدردی۔ کیا اِس معقولیت کے زمانہ میں دین کے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم تلوار سے لوگوں کو مسلمان کرنا چاہیں۔ کیا جبر کرنا اور زور اور تعدّی سے اپنے دین میں داخل کرنا اِس بات کی دلیل ہوسکتی ہے کہ وہ دین خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے؟ خدا سے ڈرو اور یہ بیہودہ الزام دین اسلام پر مت لگاؤ کہ اس نے جہاد کا مسئلہ سکھایا ہے اور زبردستی اپنے مذہب میں داخل کرنا اس کی تعلیم ہے۔ معاذ اللہ ہرگز