ہمارا کوئی الہام پیش کرنا چاہیئے۔ اجتہادی غلطی نبیوں او ررسولوں سے بھی ہو جاتی ہے۔ جس پر وہ قائم نہیں رکھے جاتے۔ ذرہ صحیح بخاری کو کھولو اور حدیث ذھب وھلی کو غور سے پڑھو۔ ایسا اعتراض کرنا جو دوسرے پاک نبیوں پر بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہی اعتراض آوے مسلمانوں اور نیک آدمیوں کاکام نہیں ہے بلکہ لعنتیوں اور شیطانوں کا کام ہے۔ اگر دل میں فساد نہیں تو قوم کا تفرقہ دور کرنے کے لئے ایک جلسہ کرو اور مجلس عام میں میرے پر اعتراض کرو کہ فلاں پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ پھر اگر حاضرین نے قسم کھاکر کہہ دیا کہ فی الواقع جھوٹی نکلی او ر میرے جواب کو سن کر مدلل بیان اور شرعی دلیل سے ردّ کردیا تو اُسی وقت مَیں توبہ کروں گا۔ ورنہ چاہیئے کہ سب توبہ کرکے اس جماعت میں داخل ہو جائیں اور درندگی اور بدزبانی چھوڑ دیں۔ اےؔ مسلمانوں کی ذریّت! میں نے آپ لوگوں کا کیا گناہ کیا ہے کہ آپ لو گ انواع اقسام کے منصوبوں سے میری ایذا کے درپَے ہوگئے۔ تم میں سے جو مولوی ہیں وہ ہر وقت یہی وعظ کرتے ہیں کہ یہ شخص کافر بے دین دجّال ہے اور انگریزوں کی سلطنت کی حد سے زیادہ تعریف کرتا ہے اور رُومی سلطنت کا مخالف ہے۔ اور تم میں سے جو ملازمت پیشہ ہیں وہ اِس کوشش میں ہیں کہ مجھے اِس محسن سلطنت کا باغی ٹھہراویں ۔میں سنتا ہوں کہ ہمیشہ خلافِ واقعہ خبریں میری نسبت پہنچانے کے لئے ہر طرف سے کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آپ لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ میں باغیانہ طریق کا آدمی نہیں ہوں۔ میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اِس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھرسکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی او ر مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے