نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اور نیز پیشگوئی کی گئی تھی کہ لڑکا ہوگا لیکن لڑکی ہوئی اور پھر لڑکا ہوا تو مرگیا۔ ہاں بعد میں چار لڑکے ضرور ہوگئے۔ سو آتھم کی نسبت ہم ؔ ابھی لکھ چکے ہیں کہ الہامی شرط کے موافق وہ پیشگوئی کمال صفائی سے پوری ہوگئی۔ بھلا تم ہی بتلاؤ کہ جس الہام میں صریح شرط تھی اور قرائن ثابت شدہ نے بتلا دیا تھا کہ آتھم نے کسی حد تک اس شرط کی ضرور پابندی کی تو کیا ضرور نہ تھا کہ اس پابندی سے آتھم فائدہ اُٹھاتا۔ کیا خدا تعالیٰ پر تخلف وعدہ جائز ہے ؟ کیا روا ہے کہ وہ کسی رعایت اور درگذر کا وعدہ کرکے پھر اس وعدہ کا کچھ لحاظ نہ رکھے۔ یونس نبی کے الہام میں کوئی بھی شرط نہ تھی تب بھی توبہ کرنے والوں نے اپنی توبہ سے فائدہ اٹھایا۔ پھر آتھم صریح شرط سے کیوں تھوڑا سا فائدہ نہ اُٹھا لیتا؟ کیا تم کہہ سکتے ہو کہ آتھم ایسا اپنی عیسائیت کے تعصب پر قائم رہا کہ کچھ بھی خوف نہیں کیا اور رجوع کی شرط کو چھوا بھی نہیں۔ اِس بات پر آفتاب کی طرح دلائل چمک رہے ہیں کہ آتھم پیشگوئی کے سننے کے بعد اپنے پہلے تعصب اور سخت زبانی اور عادت مقابلہ اسلام پر قائم نہ ر ہ سکا۔ اور وہ پیشگوئی کو سن کر اس طرح دہشت زدہ ہوگیا جس طرح بجلی کو دیکھ کر ایک بچہ دہشت زدہ ہو جاتا ہے اور اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرلی اور غریب طبع ہوگیا۔ اگر اب بھی کوئی اپنے تعصب اور بخل کو نہ چھوڑے تو بجز اس کے کیا علاج ہے کہ ہم اُس کو یہ بات کہہ کر چھوڑدیں کہ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْن۔ اور یاد رہے کہ لڑکی پیدا ہونا یا ایک لڑکا پیدا ہوکر مر جانا اس سے الہام کو کچھ تعلق نہ تھا۔الہام یہ بتلاتا تھا کہ چار لڑکے پیدا ہوں گے اور ایک کو ان میں سے ایک مرد خدا مسیح صفت الہام نے بیان کیا ہے۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل سے چار لڑکے پیدا ہوگئے۔ ہمارا کوئی الہام ایسا نہیں ہے جس کا یہ مضمون ہو کہ پہلے حمل میں لڑکا ہی پیدا ہوگایا دوسرے حمل میں جو لڑکا پیدا ہوگا وہ جیتا رہے گا۔ ہاں اگر ہم نے محض اپنے اجتہاد سے یہ خیال کیا ہو کہ شاید یہی لڑکا مردانِ خدا میں سے ہوگا تو یہ الہامِ الٰہی پر الزام نہیں۔ ہم اپنی اجتہادی باتوں کو خطا سے معصوم نہیں سمجھتے۔ ہمیں ملزم کرنے کے لئے