میں تقریر کے بالا رہنے کی اور زمانہ گمنامی کے بعد کروڑہا آدمیوں میں شہرت ہو جانے اور ہزارہا مخلص اور ہمدرد اور خادم پیدا ہوجانے کی اور دُور دور سے تحائف اور مال پہنچنے کی اور ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے الزام خون کے مقدمہ سے آخر بری ہو جانے کی اور مولوی محمد حسین کے سب وشتم اور بدزبانی کے رو کے جانے کی اور ساتھ اس کے اس مقدمہ سے بری ہونے کی اور اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء کے مطابق چار لڑکے پیدا ہونے کی اور ضمیمہ رسالہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ کے مطابق چوتھا لڑکا اُس وقت پیدا ہونے کی کہ ابھی عبد الحق غزنوی شاگرد مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی زندہ تھا۔ اور تین*ابتلا پیش آنے کی پیشگوئی جس کا ذکر براہین کے صفحہ۲۴۱ اور صفحہ ۵۱۰ اور صفحہ ۵۱۱ اور صفحہ ۵۵۷ میں ہے۔ یہ پیشگوئیاں سب پوری ہوئیں لیکن آتھم کی
*یہ ؔ تین ابتلا جن کی آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک وہ ہے جو ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے ناحق جھوٹا مقدمہ الزام اقدام خون کامیرے پر دائر کیا۔ اس ابتلا کی طرف براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں صریح اشارہ ہے۔ دوسرا وہ ابتلا ہے جو مولوی محمد حسین بٹالوی نے ناحق میرے پرکفر کا فتویٰ لکھا اور پھر ذلت کی پیشگوئی کے اُلٹے معنے کئے اور میرے پر مقدمہ بنایا گیا۔ اس ابتلا کی طرف صفحہ ۵۱۰ اور صفحہ ۵۱۱ براہین میں اشارہ ہے ۔ اور تیسرا ابتلا لیکھرام کے مقدمہ میں ہندوؤں کا جوش اور ناحق میرے گھر کی تلاشی کراناہے جس کا ذکر براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ میں بطور اشارہ ہے* غرض براہین احمدیہ میں تین سخت ابتلا کا بطور پیشگوئی ذکر تھا ۔سو وہ تینوں ابتلا پورے ہوگئے۔ اور شائد ان کی کوئی اور شاخ ابھی باقی ہو۔ منہ
آریوں کا میرے پر بدظن ہونا تعجب کی جگہ ہے کیونکہ سب سے پہلے تو آریوں کو ہی میرے نشانوں کا تجربہ ہوا تھا۔ قادیاں کے بعض آریوں کو میں نے پیش از وقت پنڈت دیانند سورستی کی موت کی خبردی کہ چھ۶ ماہ کے اندر فوت ہو جائے گا۔ اور خود ان آریوں کے بعض بلاؤں کی پیش از وقت خبردی اور پھر بلا سے رہائی پانے کی پیش از وقت خبر دی۔ ان تمام الہامات کی تفصیل براہین احمدیہ میں موجود ہے او رجن کی نسبت پیشگوئی کی گئی تھی وہ بھی قادیان میں زندہ موجود ہیں۔ اُن میں سے ایک کا نام شرمپت ہے وہ ذات کے کھتری اور بازار کے چودھری ہیں۔ شرمپت کو میں نے خدا سے الہام پاکر خبردی تھی کہ ان کے مقدمہ کی فوجداری مثل چیف کورٹ سے واپس آئے گی اور ماتحت عدالت سے نصف قید بشمبرداس اُس کے بھائی کی میری دُعا کی وجہ سے معاف کردی جائے گی مگر بری نہیں ہوگا۔ اور میں نے اُس کو یہ بھی کہا تھا کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا ہے کہ میں نے نوشتہ قضاوقدر کی نصف قید کو اپنی قلم سے کاٹ دیا ہے مگر بری نہیں کیا۔ لالہ شرمپت ایک سخت متعصب آریہ دشمن اسلام ہے ۔میری تصدیق کے لئے اس قدر کافی ہے کہ لالہ شرمپت کو اولاد کی قسم دے کر پوچھا جائے کہ کیا یہ میرے بیانات صحیح ہیں یا غلط ؟ منہ