ایسی پیشگوئی کرنا انسانی طاقتوں میں داخل ہے؟ اگر ہے تو کوئی اِس کا مقابلہ کرکے دکھلاوے۔ ایساہی جب براہین احمدیہ میں یہ الہام شائع کیا گیا کہ ’’ میں تجھے ایک نامور انسان بناؤں گا۔ اور لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈالوں گا۔ اور دور دور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ اور دُور دُور سے تیرے آرام کی چیزیں تجھے پہنچائی جائیں گی‘‘ ۔ اس زمانہ کو اب بیس برس گذر گئے اور یہ عاجز اُس وقت ایک ایسا گمنام آدمی تھا کہ بجز ایسے دو چار آدمیوں کے کہ جو میرے باپ کے وقت سے میرے روآشنا تھے اور کوئی بھی پنجاب اور ہندوستان سے مجھ کو نہیں جانتا تھا اور نہ مجھ سے ہمدردی اوردوستی کا تعلق رکھتا تھا۔ پھر بعد اس کے اِس پیشگوئی کے مطابق اب لاکھوں انسانوں بلکہ کروڑوں میں مَیں مشہور کیا گیا اور کئی ہزار آدمی مجھ سے ہمدردی اور دوستی اوراخلاص کا تعلق رکھنے والے پیدا ہوگئے اور ہندوستان کے کناروں تک بلکہ برہما اور بندر عباس اور مدراس اور بخارا اور حیدرآباد اور افریقہ اورکابل کے ملک سے انواع اقسام کے تحفے لوگوں نے بھیجے اور میرے سلسلہ کے لئے بہت سے روپیہ سے مدد کی اور ہمیشہ کرتے ہیں۔ پس یہ مقام رقت اور وجد کا ہے کہ کیونکر اِس وقت اُس زمانہ کی پیشگوئیاں جبکہ میں ایک ہیچ او رذلیل چیز کی طرح اِس جنگل میں پڑا تھا۔ نہایت کرّوفرّ اور شان و شوکت سے پوری ہوگئیں۔ اپنے دلوں میں غور کرو اور عقلمندوں سے پوچھو کہ کیا اِس قسم کی پیشگوئیوں میں انسانی طاقت کادخل ہے*؟ بعض نادان جن کو تعصب نے اندھا کردیا ہے کہتے ہیں کہ اگرچہ بعض پیشگوئیاں سچی نکلیں جیسا کہ احمد بیگ کے فوت ہونے کی اور لیکھرام کے قتل کئے جانے کی اور لاہور کے جلسہء اعظم مذاہب
* خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ میری پیشگوئیوں سے صرف اس زمانہ کے لوگ ہی فائدہ نہ اُٹھائیں بلکہ بعض پیشگوئیاں ایسی ہوں کہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک عظیم الشان نشان ہوں جیسا کہ براہین احمدیہ وغیرہ کتابوں کی یہ پیشگوئیاں کہ ’’ میں تجھے اسی ۸۰برس یا چند سال زیادہ یااس سے کچھ کم عمر دوں گا اور مخالفوں کے ہر ایک الزام سے تجھے بری کروں گا اور تجھے ایک بڑا خاندان بناؤں گا اور تجھ سے ایک عظیم الشان انسان پیدا کروں گا اور تیرے تابعین سے دنیا بھر جائے گی اور وہ ہمیشہ دوسروں پر غالب رہیں گے اور تو ہلاک نہیں ہوگا جب تک کہ راستی کے دلائل کو زمین پر قائم نہ کرلے اور جب تک کہ خبیث اور طیب میں فرق پیدا نہ ہولے۔ اور خدا تجھے اس قدر برکت دے گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔ منہ