آتھم کی پیشگوئی جمالی ہے اور لیکھرام کی جلالی۔ ان دونوں پیشگوئیوں پر نظر غور ڈالنے سے بڑا علم حاصل ہوتا ہے اور عادات الٰہیہ کی حقیقت کھلتی ہے کہ وہ کیونکر نرم کے ساتھ نرم اور سخت کے ساتھ سخت ہے، آتھم اور لیکھرام کی روش کا فرق کس کو معلوم نہیں ؟ مگر اب کون بیان کرے جبکہ بہرحال جھٹلانا منظور ہے۔ اگر اسی طرح تکذیب جائز ہے جیسا کہ آتھم کی پیشگوئی کی نسبت کی گئی تو پھر ایسے لوگوں کو نبیوں کی بہت سی پیشگوئیوں سے انکار کرنا پڑے گا۔ جس طور سے اِس بند ۂ حضرت احدیّت کے کھلے کھلے طورپر نشان ظاہرہوئے۔ اور لاکھوں انسانوں میں پیش از وقت پیشگوئیاں مشہور ہوکر پھر کُشتی کے منظر عام کی طرح ہزارہا لوگوں کے زیر نظر وہ پیشگوئیاں پوری ہوئیں کیا اس کی نظیر دنیا میں ہے ؟ سوچنا چاہیئے کہ پیشگوئیاں چھ صورتوں سے باہر نہیں ہوتیں۔ (۱) یا اپنی ذات کے متعلق۔ (۲) یا اپنی بیوی کے متعلق (۳)ؔ یا اپنی اولاد کے متعلق (۴)یا اپنے دوستوں کے متعلق (۵) یا اپنے دشمنوں کے متعلق (۶)یا دنیا کی اور کسی چیز یا انسان کے متعلق ۔سو یہ تمام قسموں کی پیشگوئیاں کتاب براہین احمدیہ اور اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء اور حاشیہ متعلقہ صفحہ۲ ۔ اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء مندرجہ آئینہ کمالات اسلام اور ضمیمہ رسالہ انجام آتھم صفحہ ۵۸۔ اور رسالہ انجام آتھم صفحہ۲۸۲ او رازالہء اوہام میں درج ہیں اور نیزاشتہار جنوری۱۸۹۷ ؁ء میں بھی جس میں یہ پیشگوئی تھی کہ جلسہ مذاہب میں ہمارا مضمون غالب رہے گا ۔جس کی تصدیق سول ملٹری گزٹ اورآبزرور نے بھی کی۔ ایسا ہی کتاب البریت میں بھی جس میں ایک پیشگوئی ڈاکٹر مارٹن ہنری کلارک کے مقدمہ سے بری ہونے کی نسبت ہے ۔ یہ تمام پیشگوئیاں اگر تفصیلاً لکھی جائیں تو ایک دفتر بنتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک پیشگوئی کی قدر و منزلت دیکھنے کے لئے یہ بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ پیشگوئی کس وقت اور کس زمانہ میں لکھی گئی ۔ مثلاً چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی نسبت ایسے وقت میں پیشگوئی کرنا جبکہ اُن میں سے ایک لڑکا بھی موجود نہ تھا اور ساتھ اس کے یہ پیشگوئی کرنا کہ عبد الحق نہیں مرے گا جب تک چوتھا لڑکا پیدا ہونا نہ سن لے۔کیا