اطلاع دی کہ اگر وہ خوف جس کا تمہیں اقرار ہے خدا کے غضب سے نہ تھا بلکہ میرے کسی مجرمانہ حملہ سے تھا تو عدالت میں نالش کرو اور اس کا ثبوت دو۔ لیکن نہ اُس نے نالش کی اور نہ ایّام پیشگوئی میں اِس بات کو کسی اخبار میں چھپوایا کہ میں قتل کئے جانے سے ڈرتا رہا اور نہ پولس میں اطلاع دی۔ کیا اِس سے ظاہر نہیں کہ ایسی کارروائی کرنے سے اُس کا دِل اُس کو ملزم کرتا تھا۔ کیا یہ دلیل آتھم صاحب کے رجوع کی کچھ تھوڑے وزن کی ہے کہ جیسا کہ الہام میں پیش از وقت شائع کیا گیا تھا کہ آتھم رجوع سے فائدہ اُٹھائے گا لیکن اگر گواہی کو پوشیدہ کرے گا تو پھر جلد پکڑا جائے گا اور فوت ہو جائے گا۔ یہ الہام آتھم صاحب کے فوت ہونے سے پہلے لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہوچکا تھا۔ چنانچہ آتھم صاحب میرے آخری اشتہار سے چھ ماہ بعد فوت ہوگئے اور اپنے بچنے اور مرنے سے پیشگوئی کی شہادت کو دوہرے طور پر ثابت کر گئے۔ جب شرط پر عمل کیا تو بقدر اس عمل کے تاخیر ہوگئی۔ اور جب گواہی کو چھپایا تو پکڑا گیا۔ دیکھو یہ پیشگوئی کیسی صاف اور روشن تھی اور کس طرح اس میں الٰہی عظمت بھری ہوئی تھی مگر پھر بھی متعصب لوگوں نے الہامی شرط کو نظرانداز کرکے تکذیب پر کمر باندھ لی۔ سو اسی طرح ہمیشہ نبیوں کی تکذیب ہوتی رہی ہے۔ افسوس کہ ان ظالم طبع لوگوں نے آتھم والی پیشگوئی کا لیکھرام والی پیشگوئی سے مقابلہ بھی نہیں کیا۔ یہ ہدایت پانے کا مقام تھا کہ آتھم کی پیشگوئی میں الہام رجوع کی شرط سے وابستہ تھا اور بہت سے قرائن نے ظاہر کردیا تھا کہ ضرور آتھم نے شرط کی پابندی کی سو خدائے رحیم نے اس کی پابندی سے جس قدر کہ پابندی اس سے ظہور میں آئی اسی قدر اُس کو فائدہ پہنچا دیا۔ مگر لیکھرام کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی۔ اِس لئے اس کو تاخیر نہ ملی۔ آتھم نے نرمی اور خوف اور ہراساں اور ترساں ہونے سے کام لیا۔ اس لئے خدا نے بھی اس سے نرمی کی مگر لیکھرام نے پیشگوئی کے بعد زبان کی چھری حد سے زیادہ تیز کردی اور ہمارے رسول کریم کو ہر ایک مجلس میں گالیاں دینا شروع کیا اس لئے اس نے خدا کے تیز حربہ سے اپنی تیزی کا پھل پایا۔ یہ دونوں پیشگوئیاں اپنی اپنی جگہ جمالی اور جلالی رنگ میں ہیں۔