وہ چوتھا لڑکا پیدا نہ ہو۔ ہر ایک دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ باتیں انسان کی طاقت سے بالاتر ہیں ۔ اور اگر یہ پیشگوئیاں صرف زبانی ہوتیں اور شائع نہ کی جاتیں تو منکرین کے لئے انکار کی گنجائش رہ جاتی مگر حق کے طالبوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ یہ تمام پیشگوئیاں بہت مدت پیش از وقت شائع کی گئی ہیں۔ چود ہ سال پہلے بیان کرنا اور لاکھوں انسانوں میں تحریری اشتہارات کو مشتہر کردینا کیا یہ انسان کا کام ہوسکتاہے؟ دنیا میں کون ہے جو کسی قیافہ یا اٹکل سے پیشگوئی کرسکے؟ کہ ضرور ہے کہ فلاں میری بیوی سے میرے گھر میں چار لڑکے پیدا ہوں۔ اور ضرور ہے کہ چوتھے لڑکے کادوشنبہ سے کچھ تعلق ہو۔ اور ضرور ہے کہ فلاں شخص اس وقت تک فوت نہ ہو جب تک چوتھا لڑکا پیدا ہو جائے۔ اب ذرہ سوچو کہ یہ کس عظمت اور شان کی پیشگوئی اس شخص کی ہے جس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور پھر ایسی پیشگوئیاں اپنی سچائی کی معیار قراردیں۔ اور یہ بھی اشتہارات میں مخالفوں کو مخاطب کرکے لکھ دیا کہ اگر تم خدا دوست ہواور خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے تو دعا کرو کہ یہ پیشگوئیاں پوری نہ ہوں اور پھر وہ پیشگوئیاں پوری ہوگئیں اور مخالفوں نے جو الہامی بھی کہلاتے تھے بہت سی دعائیں بھی کیں کہ وہ پیشگوئیاں ٹل جائیں لیکن خدا نے ان کی دعا نہ سنی اور سب کے سب نامراد رہے۔ کیا ایسا مدعی جھوٹا ہوسکتا ہے ؟ جن تحریروں اور محکم شہادتوں کے ساتھ یہ نشان ظاہر ہوگئے۔ دنیا میں تلاش کرو کہ بجز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلیٰ درجہ کے ثبوت کی نظیر کہاں ہے؟ مگر اس جگہ یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ چونکہ متعصب انسان کی یہ عادت ہے کہ جبکہ اس پر ہر ایک طرح سے حجت پوری ہو جاتی ہے اورخوب مضبوط طور پر الزام کے شکنجے کے نیچے آجاتا ہے۔ تو پھر وہ دیدہ دانستہ حیا اور شرم سے بھی لاپروا ہوکر دن کو رات کہنا شروع کردیتا ہے۔ اور باوجود یکہ کوئی بھی انکار کی گنجائش نہ ؔ ہو تب بھی بیہودہ نکتہ چینیوں کی بنا پر انکار کئے جاتا ہے۔ پس یہی وجہ ہے کہ ہمارے مخالفوں نے خدا تعالیٰ کے صدہا نشانوں کو دیکھ کر پھر بھی اُن سے کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھایا