بلکہ بعض ایسی پیشگوئیوں پر بھی جو مشروط تھیں اور بلحاظ اپنے شرائط کے پوری ہوگئی تھیں اور الہامی شرطوں نے تقاضا کیا تھا کہ ان کی پابندی کرنے والوں کو پابندی کا فائدہ ملے۔ کمال نا انصافی سے یہ اعتراض کیا کہ وہ جھوٹی نکلیں اور پوری نہیں ہوئیں۔ جیسا کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم کی موت کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی جس میں یہ شرط تھی کہ اگر آتھم صاحب پندرہ مہینے کی میعاد میں حق کی طرف رجوع کر لیں گے تو موت سے بچ جائیں گے۔ نافہم مخالفوں نے یہ شور مچا دیا کہ آتھم پندرہ مہینے کے اندر فوت نہیں ہوا بلکہ بعد میں فوت ہوا۔ اور اگر یہ لوگ ایک ساعت تعصب سے الگ ہوکر پیشگوئی کے مضمون پرغور کرتے اور شرط کے لفظوں کو تدبر سے دیکھتے اور پھر آتھم صاحب کے اُن حالات پر نظر ڈالتے جو پیشگوئی کی میعاد پندرہ مہینے میں انہوں نے ظاہر کئے تو بلاشبہ انسانی حیا ان کو اس بات سے مانع آتا کہ وہ ایسی روشن پیشگوئی کو جو کھلے کھلے طورپر پوری ہوگئی غلط قرار دیتے ۔ مگر اس اندھی دنیا میں تعصب بھی ایک سخت پُرآشوب غبار ہے جس سے انسان دیکھتا ہوا نہیں دیکھتا۔ اور سنتا ہوا نہیں سنتا۔ اور سمجھتا ہوا نہیں سمجھتا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آتھم نے پندرہ مہینے میعاد پیشگوئی میں مذہبی مباحثات سے بکلی منہ بند رکھا اور اُس اپنی قدیم عادت سے رجوع کیاجس کو وہ ہمیشہ تالیف اور تحریر کے رو سے ظاہر کرتا تھا۔ کیا اس رجوع کا بجز اس کے کوئی اور سبب تھاکہ وہ اس بات سے ڈرا کہ ایسا نہ ہو کہ متعصبانہ بحثوں اور تحریری اور تقریری گستاخیوں سے جلد تر اس پر کوئی وبال آوے۔ پس غضب الٰہی کے خوف سے اپنی قدیم عادت سے رجوع کرنا پڑا ۔ کیا یہ رجوع نہ تھا ؟ کیا یہ عیسائیت پر استقامت کی دلیل ہے کہ ایسا شخص جو کبھی توہین اسلام اور بحث مباحثہ سے باز نہیں آتا تھا وہ پندرہ مہینے یعنی میعاد پیشگوئی کے ایّام تک اپنا منہ بند رکھے اور حو اس باختہ ہوکر سود ائیوں کی طرح زندگی گذرانے؟ پس جبکہ آتھم نے پیشگوئی سے ڈرکر اپنی پہلی طرز زندگی کو چھوڑ دیا اورخوف کے آثار ظاہر کئے اور بے ادبی اور ردِّ اسلام سے باز آگیا تو کیا اس حالت کو رجوع نہیں کہیں گے؟